بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کاروبار کے منافع کا 50فیصد صدقہ کرنے کی نیت اور اس کے حساب کا شرعی حکم


سوال

میرا خواتین اور مردوں کے ملبوسات کا نیا کاروبار ہے۔ ابھی میرا سرمایہ بھی زیادہ نہیں، فروخت بھی کم ہے، اور میں نے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے منافع بھی بہت کم رکھا ہوا ہے۔ میرے دل میں یہ نیت آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے کاروبار میں برکت کے لیے میں اپنے کاروبار کے خالص منافع کا 50فیصد صدقہ کیا کروں۔ لیکن مجھے چند اشکالات ہیں۔ کاروبار میں خریداری کے علاوہ دیگر اخراجات بھی ہوتے ہیں، بعض گاہک ادھار خریدتے ہیں، بعض بعد میں ادائیگی کرتے ہیں اور بعض اوقات رعایت بھی دینی پڑتی ہے، اس لیے خالص منافع کا درست حساب رکھنا میرے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ براہِ کرم درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی فرما دیں: کیا موجودہ حالات میں خالص منافع کا 50فیصدصدقہ کرنے کی نیت مناسب ہے، یا میری کم سرمایہ کاری اور کم فروخت کو دیکھتے ہوئے کوئی کم شرح مقرر کرنا بہتر ہوگا؟ اگر میں ایک مخصوص شرح مقرر کر لوں، تو کیا بعد میں حالات کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ کر سکتا ہوں؟ صدقے کا حساب خالص منافع پر کیا جائے یا ہر فروخت پر؟ اگر فروخت ادھار ہو تو صدقہ فروخت کے وقت نکالنا چاہیے یا رقم وصول ہونے کے بعد؟ قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔ 

 

جواب

واضح رہے کہ نفلی صدقہ اس مال سے مستحب ہے جو انسان کی ذاتی اورزیرِ کفالت افراد کی ضروریا ت سے زائد ہو۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کا یہ نیت کرنا کہ "اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے کاروبار میں برکت کے لیے اپنے کاروبار کے خالص منافع کا 50 فیصد صدقہ کیا کروں گا" اس سلسلے میں اگر صرف دل میں نیت کی ہو اور زبان سے کوئی الفاظ (نذر یا منت کے) ادا نہ کیے ہوں، تو یہ ایک نفلی صدقہ ہے۔محض دل میں ارادہ یا نیت کرنے سے وہ مال صدقہ کے طور پر سائل  کے ذمے لازم نہیں ہوتا۔ اس لیے کوئی مخصوص فیصد لازم نہیں بلکہ جتنی استطاعت ہو، اسے غریبوں، رشتہ داروں یا کسی بھی فلاحی کام میں دے سکتا ہے۔

 

اعلم ‌أن ‌الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم، ومن أراد التصدق بماله كله وهو يعلم من نفسه حسن التوكل والصبر عن المسألة فله ذلك وإلا فلا يجوز، ويكره لمن لا صبر له على الضيق أن ينقص نفقة نفسه عن الكفاية التامة كذا في شرح درر البحار وفي التتارخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات؛ لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء. (رد المحتار على الدرالمختار، ‌‌كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، ج:2، ص:357)


فتویٰ نمبر : 6792/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں