بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

صلح کے دوران بھیڑ یا بکری ذبح کرنا


سوال

زید اور خالد نے جھگڑا کر لیا۔ زید نے خالد کو مارا پیٹا، بکر اور عمر نے ان دونوں کے درمیان صلح کر دی۔ تو ہمارے علاقے اور قوم کا یہ رواج ہے کہ جب دو بندوں کے درمیان جھگڑا آ جائے تو منصفین حضرات ظالم کو کہتے ہیں (جیسے زید کو) کہ آپ ایک یا دو بھیڑ یا بکری لے آؤ، اور پھر مظلوم کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ مظلوم کی طرف سے منصفین کو ایسا کچھ نہیں کہا جاتا کہ بھیڑ یا بکری لے آؤ۔ جب مظلوم کے گھر پہنچتے ہیں تو منصفین ظالم کو کہتے ہیں کہ ایک یا دو بکری ذبح کر لو۔ اکثر اوقات مظلوم اس سے ناراض ہو جاتا ہے کہ بکری کو کیوں ذبح کیا؟اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح ذبح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کا گوشت کھانا درست ہے یا نہیں؟ عرف میں اس جیسے معاملے کو"ننواتے"کہا جاتا ہے۔

 

جواب

بعض علاقوں میں جب دو فریقین کے درمیان صلح کرائی جاتی ہے، تو زعماے جرگہ زیادتی کرنے والے شخص پر جرمانہ لگاتے ہیں کہ وہ بکریاں ذبح کر کے لوگوں کو کھلائے۔ یہ تعزیر بالمال (مالی جرمانہ) کا مسئلہ ہے، جو کہ فقہی اعتبار سے اختلافی ہے۔ بعض علماے کرام اسے جائز قرار دیتے ہیں اوراکثر حضرات عدم جواز کے قائل ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں جرائم کے انسداد، ظالم کو ظلم سے روکنے، اور انتظامی مصلحت کی بنیاد پر معاشرے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لیے مالی جرمانہ لگانے کی گنجائش ہے۔ بشرطیکہ جرمانہ لینے والے اسے اپنے ذاتی استعمال میں نہ لائیں، بلکہ ظالم سے لے کر مظلوم کو دے دیں، یا غربا پر صدقہ کریں، یا مفادِ عامہ میں لگا دیں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق، جن علاقوں میں ظلم  کرنے والےپر جرمانہ بکریوں کو ذبح کرنے کی شکل میں لگایا جاتا ہے، اس کی گنجائش ہے۔ تاہم مجرم کی استطاعت کو مدِ نظر رکھ کر جرمانہ لگایا جائے۔ نیز جب اس جانور کو صرف اللہ تعالی کے نام پر ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت حلال ہوگا۔

 

لو ضافه أمير فذبح عند قدومه، فإن قصد التعظيم لا تحل وإن أضافه بها وإن قصد الإكرام تحل وإن أطعمه غيرها. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الذبائح، ج:6، ص:310)

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم. (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام، ص:195)


فتویٰ نمبر : 6786/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں