بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

عذرکی وجہ سےمنگنی توڑنا


سوال

اگرایک شخص نےاپنی بیٹی کی منگنی ایسےگھرمیں کی ہوکہ جن کی آمدنی حرام ہو، اب اگروہ اپنی بیٹی کی شادی ایسےگھرمیں کرے تواس کا بھی مال حرام سے واسطہ ہوگا، ایسی صورت میں اگروہ شخص اپنی بیٹی کوحرام مال سے بچانےکےلیےوہ منگنی توڑ دے تو کیا شرعی لحاظ سے وہ گناہ گارہوگا؟

جواب

واضح رہےکہ منگنی نکاح کا وعدہ ہوتا ہے، جس کو پورا کرنا دیانۃ ً ضروری ہوتا ہے،البتہ اگرکوئی معقول عذر ہو تو مناسب طریقےسےمنگنی توڑی جا سکتی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر واقعی اس گھر والوں کی آمدنی حرام ہوتواس عذرکی وجہ سےمنگنی توڑناشرعاجائزہوگا۔

 

عن زيد بن أرقم رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي فلم يف ولم يجئ للميعاد فلا إثم عليه. (سنن أبی داؤد،باب الوعد، ج:4، ص: 456، رقم الحدیث: 4995)

وكذا أنا متزوجك أو جئتك خاطبا لعدم جريان المساومة في النكاح أو هل أعطيتنيها إن المجلس للنكاح وإن للوعد فوعد. (الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب النكاح،ج:3،ص:12)


فتویٰ نمبر : 7508/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں