بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے کے بھیجے ہوئے کھانے کا حکم


سوال

اگر ایک شخص کو معلوم ہو کہ ہمارے گھر میں پڑوسیوں نے کھانے وغیرہ کی جو چیز لائی ہے وہ حرام آمدنی سے خریدی گئی ہے تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے واپس کرنا چاہیے یا غریبوں کو دینا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی آمدنی صرف مالِ حرام سے ہو تو ایسے شخص کی دعوت یا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں، تاہم اگر حلال وحرام مال مخلوط ہو اور حلال مال غالب ہو تو اس صورت میں اس سے ہدیہ وغیرہ قبول کرنے کی گنجائش ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی اگر اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کھانے وغیرہ کی چیز لانے والے کی ساری کمائی حرام کی ہو تو اس سے قبول کرنا جائز نہیں، بلکہ اچھے طریقے سے اس کو واپس کرنا چاہئے۔ البتہ اگر کوئی چیز لے لی ہو تو وہ کسی فقیر و محتاج کو دی جائے۔

 

وفي "عيون المسائل": رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه. (المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان و الكراهية، ج:5، ص:368)

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:343)


فتویٰ نمبر : 6791/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں