بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے وکیل یا تقسیم کرنے والے کے سفری اخراجات (کرایہ) کاٹنا


سوال

میں بینک کے ذریعے ایک ساتھی کو زکوٰۃ کے پیسے بھیجتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ آپ یہ پیسے فلاں فلاں غریب آدمیوں کو دے دیں۔ اب وہ ساتھی ایک ایک غریب کے گھر جا کر زکوٰۃ تقسیم کرتا ہے اور اس آنے جانے کا کرایہ وغیرہ خرچ کرتا ہے؛ تو کیا وہ یہ کرائے کے پیسے زکوٰۃ کے پیسوں میں سے وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد صاحبِ نصاب کو اختیار ہے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم یا  خود کسی فقیر کے حوالے کرے یا کسی کو وکیل بنا دے؛ دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔ البتہ  تقسیم کے دوران اگر کوئی اخراجات آ ئیں تو  وہ زکوٰۃ کے رقم سے نہیں کاٹ سکتا۔

لہٰذا وکیل کا کرایہ یا سفری اخراجات مالِ زکوٰۃ میں سے خرچ کرنا جائز نہیں،اس کے لئے مزکی (زکوٰۃ دینے والا )الگ رقم فراہم کرے گا۔

  

(والتمكن من القبض كالقبض، فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض (وإن مفتوحا كان قبضا لمكنه منه) فإنه كالتخلية في البيع.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،ص561)

لأن الواجب في باب الزكاة التمليك من كل وجه۔ (المحيط البرهاني، 2/ 278)

وأما الحقيقة فإن الزكاة تمليك المال من الفقير، والمنتفع بها هو الفقير فكانت حق الفقير۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 2/ 5)

وإنما جازت بأداء الوكيل؛ لأن المؤدي في الحقيقة هو الموكل۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 2/ 5)

من عليه الزكاة إذا أراد أن يكفن ميتا عن زكاة ماله لا يجوز (والحيلة فيه أن يتصدق بها على فقير من أهل الميت) ، ثم هو يكفن به الميت فيكون له ثواب الصدقة ولأهل الميت ثواب التكفين، وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك۔ ( الفتاوى الهندية، 6/ 392)


فتویٰ نمبر : 11055/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں