بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مزارعت میں مالک پر عشر کا وجوب


سوال

میری اپنی زمینیں ہیں جن میں میں کچھ بھی خرچ نہیں کرتا لیکن کسی اور کو دیتا ہوں، چھٹے حصے پر یعنی اس سے جو بھی آمدنی ہوتی ہے اس کا چھٹا حصہ مجھے دیتے ہیں۔ اب آیا اس میں عشر ہوگا یا زکوٰۃ اور مجھ پر ہوگا یا اس پر؟

جواب

واضح رہے کہ زمین سے حاصل ہونے والی مجموعی پیداوار میں عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے، عقد مزارعت سے حاصل ہونے والی فصل چونکہ مالک زمین اور مزارع کے درمیان مشترک ہوتی ہے، اس لیے عشر کی ادائیگی بھی دونوں پر اپنے اپنے حصے میں لازم ہوگی ۔

صورت مسئولہ میں سائل پر اپنے حصے کے غلے میں عشر دینا لازم ہوگا اور کاشتکار پر اپنے حصے میں ۔

 

والعشر ‌يجب في الخارج والخارج بينهما فيجب العشر عليهما.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،فروع في زكوة العشر،ج:2،ص:335) 


فتویٰ نمبر : 11062/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں