بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

حدیث تکثیر امت کا صحیح مفہوم


سوال

حدیث  مبارک میں زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن میری امت کی کثرت ظاہر ہو اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص غریب ہو اور اگر وہ زیادہ بچے پیدا کرے تو ان کی تربیت وغیرہ اس کے لیے مشکل ہو تو ایسی صورت  میں اس کے لیے حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔

جواب

حدیث مبارک میں ایسی عورت سے نکاح کی ترغیب ہے جوزياده  محبت کرنے والی اور زیادہ اولاد جننے والی ہو، تاکہ امتِ محمدیہ کی کثرت ہو۔ تاہم  حدیث میں ہر شخص کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم  نہیں دیا گیا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اولاد کی مناسب دینی واخلاقی تربیت اور دیگر شرعی حقوق ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کے لیے زیادہ اولاد کی نیت کرنا باعثِ اجر و فضیلت ہے۔البتہ اگر کوئی شخص واقعی ایسی مالی، جسمانی یا معاشرتی تنگی میں مبتلا ہو کہ اسے غالب گمان ہو کہ زیادہ اولاد کی صورت میں وہ ان کی ضروری تعلیم و تربیت اور دیگر حقوق ادا نہیں کر سکے گا، تو اس پر زیادہ اولاد پیدا کرنا لازم نہیں۔تاہم صرف فقر و فاقہ یا رزق کے اندیشے کی بنا پر اولاد سے گریز کرنا درست طرزِ عمل نہیں، کیونکہ رزق کا حقیقی ضامن اللہ تعالیٰ ہے۔

 

قال الله تعالى: وَلَا تَقۡتُلُوٓا أَوۡلدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلٰقۖ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡۚ [الإسراء: 31]

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ جَمَالٍ وَحَسَبٍ، وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ.( سنن أبي داود، كتاب النكاح،رقم الحديث:2050، ج:2، ص:175)

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قالَ: "تَنَاكَحُوا، تَكْثُرُوا، فَإِنِّي أُبَاهِي بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَة.( مصنف عبد الرزاق، كتاب النكاح، رقم الحديث:11235، ج:6، ص:247)

رجل عزل عن امرأته بغير إذنها لما يخاف من الولد السوء في هذا الزمان فظاهر جواب الكتاب أن لا يسعه وذكر هنا يسعه لسوء هذا الزمان كذا في الكبرى .( الفتاوى العالمكيرية، كتاب الكراهية، ج:5،ص:356)

وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح وبه جزم القهستاني أيضا حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء لفساد الزمان وإلا فيجوز بلا إذنها.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3،ص:176)


فتویٰ نمبر : 6787/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں