بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مستحقین تک زکوٰۃ پہنچنے سے پہلے اس کی ادائیگی کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں "سلیم خان ویلفیئر جرگہ" کے نام سے ایک رفاہی و اصلاحی ادارہ قائم ہے، جو اصلاح معاشرہ اور دیگر رفاہی خدمات انجام دیتا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کو اس جرگے پر مکمل اعتماد ہے اور اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔گزشتہ رمضان المبارک میں گاؤں کے لوگوں اور بیرونِ ملک مقیم اہلِ علاقہ نے اپنی زکوٰۃ کی بڑی مقدار اس جرگے کے سپرد کی، تاکہ یہ رقم مستحقینِ زکوٰۃ پر خرچ کی جائے۔ جرگہ ان رقوم سے گاؤں کے مستحق افراد کے علاج و معالجہ کے اخراجات برداشت کرتا ہے اور بسا اوقات مستحقین کو نقد رقم بھی فراہم کرتا ہے۔اس وقت جرگے کے پاس زکوٰۃ کی کچھ رقم ابھی موجود ہے، جو تاحال خرچ نہیں ہوئی۔ اس پر بعض زکوٰۃ دینے والوں کا یہ سوال ہے کہ چونکہ ان کی دی ہوئی زکوٰۃ ابھی تک مکمل طور پر مستحقین کو نہیں پہنچی، اس لیے کیا ان کی زکوٰۃ شرعاً ادا ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال کسی مستحقِ زکوٰ کی ملکیت میں دیا جائے۔ محض زکوٰۃ کی رقم کسی کمیٹی، جرگے، فلاحی ادارے یا ٹرسٹ کے حوالے کر دینے سے، زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ،جب تک وہ رقم  مستحق کو حوالہ نہ کی گئی ہو۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر زکوۃ ادا کرنے والوں نے ویلفیئر جرگہ کو اپنی طرف سے مستحقین تک زکوٰۃ پہنچانے کا وکیل بنایا ہو، جیسا کہ عرفاً ایسے اداروں کو زکوٰۃ اسی مقصد کے لیے دی جاتی ہے، تو جرگہ زکوٰۃ دینے والوں کا وکیل شمار ہوگا۔ اس صورت میں زکوٰۃ اس وقت ادا شمار ہوگی جب جرگہ وہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ کی ملکیت میں دے دے یا اس کی اجازت سے اس کے علاج یا دیگر ضروریات پر اس طریقےسے خرچ کرے کہ تملیک کی شرط پوری ہوجائے،ورنہ جب تک رقم خرچ نہ ہوئی ہو بلکہ جرگہ کے پاس پڑی رہے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی۔

 

قال الله تعالى:﴿إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِينِ وَالۡعٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابۡنِ السَّبِيلِۖ فَرِيضَة مِّنَ اللَّهِۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيم﴾ [التوبة: 60]

أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين.( الفتاوى العالمكيرية، كتاب الزكاة، ج:1،ص:170)


فتویٰ نمبر : 11054/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں