بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
حضرات انبیائےکرام اور صحابہ کرام کی زندگی پر خاکے اور فلم بنانا
سوال
عرض یہ ہے کہ چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز ) کی جانب سے نبی کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب خاکوں پر مشتمل ویڈ یونشر کی گئی، جس پر ملک بهر كے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ بعد ازاں پیمرا نے متعلقہ چینل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کی نشریات پر محدود مدت کے لیے پابندی عائد کی ۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی ایسے مواد کو غیر شرعی قرار دیا۔اس سے قبل ڈنمارک، جرمنی اور فرانس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توہین آمیز خاکے اور گستاخانہ مواد شائع کیے گئے، جن کے خلاف پوری امت نے شدید احتجاج کیا اور ان اقدامات کی بھر پور مذمت کی ۔ ان واقعات نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کیا۔اسی طرح ماضی میں The Message نامی فلم ، جس میں بعض انبیائے کرام علیہم السلام کی تمثیلی عکاسی کی گئی تھی مختلف ممالک میں نمائش کے لیے پیش کی گئی متعدد اہل علم نے اعتراضات کیے اور مصر کے جامعہ الازہر سمیت مختلف دینی اداروں نے اس حوالے سے اپنے فتاوی اور آراء جاری کیں۔آج کل ایک نئی صورت حال سامنے آرہی ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے بعض نعت خواں، ویڈیو پروڈیوسرز ، میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا پیجز پر اپنی نعتوں، ڈاکومنٹریز اور ویڈیوز کو زیادہ پرکشش ، مؤثر اور تجارتی لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کمپیوٹر گرافکس اور دیگر بصری ذرائع سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین، اہل بیت اطہار رضی الله منہم، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور دیگر مقدس شخصیات سے منسوب خاکے تمثیلی تصاویر، کردار اور بصری مناظر پیش کر رہے ہیں ۔ان تصاویر اور کرداروں کو دیکھنے والوں کے ذہن میں یہ تصور قائم ہوتا ہے کہ فلاں صحابی رضی اللہ عنہ کی شکل وصورت ایسی تھی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنی و حسین رضی اللہ عنہما یا دیگر مقدس ہستیاں اسی انداز کی تھیں، حالانکہ ان کی حقیقی شکل وصورت کے بارے میں ایسا کوئی یقینی ثبوت موجود نہیں۔ اس طرح مقدس ہستیوں کی عظمت و ہبیت متاثر ہونے ، غلط تصورات پیدا ہونے اور بے ادبی کے امکانات جنم لیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ عمل اکثر تجار شہرت اور مارکیٹنگ کے مقاصد کے لیے بھی کرتے ہیں۔لہذا درج ذیل امور کے بارے میں قرآن وسنت، اجماع امت اور ائمہ فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جائے:1۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ، خاکہ، تصویر تمثیل یا کسی بھی قسم کی بصری نمائندگی بنانا نشر کرنا یا Al کے ذریعے تیار کرنا شرعاً جائز ہے یا ناجا (2) - کیا صحابہ اکرام ، اہل بیت اطہار، ازواج مطہرات اور دیگر مقدس شخصیات کی تمثیل ، خاکے، تصاویر یا بصری کردار تیار کرنا اور انہیں نعتوں ، نظموں میں استعمال کرنا جائز ہے؟3) - کیا تجارتی مقاصد، تشہیر، ویوز شہرت یا مارکیٹنگ کے لیے اس قسم کا بصری مواد استعمال کر نا شرعا ممنوع ہے؟اگر ایسی تصاویر یا تمثیلیں ان مقدس ہستیوں کی طرف منسوب کی جائیں تو کیا یہ ان کی شان میں بے ادبی یا تو ہین کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا مسلمانوں پر ایسے اعمال کی حوصلہ شکنی کرنا اور متعلقہ اداروں کو اس بارے میں متوجہ کر ناشر عاضروری ہے؟ قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں مفصل، بدلیل اور تشفی بخش جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جواب
واضح رہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام مبارک ہستیاں ہیں ،ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کرنا، عیب جوئی کرنا ، ان کے نقائص بیان کرنایا ان کی نقل اتارنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں، جو شخص کسی نبی کی بارے میں کسی قسم کی گستاخی کرےتو اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے،اس پر توبہ اور تجدید ایمان لازم ہوتا ہے،اسی طرح انبیاء کرام علیم السلام کے بعد امت کے سب سے بہتر لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہیں، ان کے بارے میں بھی کسی قسم کی گستاخی ناقابل برداشت ہے، نیز یہ کہ ان حضرات کی زندگی اور حالات وواقعات کی عکاسی کے لیے خاکے اور فلمیں بنانا ، لوگوں کی ذہن میں ان کی غلط تصویر سازی ہے، جو کہ کھلی گستاخی ہے، اور اس کا ارتکاب موجب توہین اور کفر ہے، چنانچہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر ان حضرات کی زندگی کے حالات پر خاکے اور فلمیں بنانا ناجائز اور حرام ہے،مثلا: 1۔یہ خاکے تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہوتے ہیں، حالانکہ جاندار کی تصویر کشی ایک حرام فعل ہے، پھر نعوذباللہ انبیاےکرام ، صحابہ کرام یا دیگر مقدس شخصیات کی نہ صرف تصویریں بنانابلکہ ان کے زندگی کے فلمی خاکے بنانا ایک گمراہ کن عمل ہے۔2۔یہ کہ گزشتہ اقوام کو اس قبیح حرکت سے منع کیا گیا ہے، کہ وہ نیک لوگوں کی تصویریں اور مجسمے بنایا کرتے تھے،3۔ اس میں مقدس شخصیات کی نقل اتاری جاتی ہے، اور کسی شخص کی نقل اتارنے سے اگر اس کی دل آزاری ہوتی ہو، یا اس کی توہین لازم آتی ہو، تو یہ شرعا حرام ہے، 4۔ خصوصا انبیاے کرام سے متعلق خاکوں میں غیر نبی کو نبی کی شکل میں دکھایا جاتاہے، اور اس کی طرف وحی نازل کرنے کی تصویر کشی کی جاتی ہے، جو کہ اللہ تعالی،فرشتوں اورنبی پر جھوٹ باندھنا ہے، اوریہ جھوٹ کی سب سے قبیح قسم ہے، 5۔ان خاکوں اور فلموں میں ان حضرات کا کردار ادا کرنے والے ایسے اافعال وحرکات اختیار کرتے ہیں، جو حرام ہوتے ہیں، مثلا غیر محرم عورتوں کے ساتھ اختلاط، عشق مجازی کی باتیں، داڑھی کاٹنا وغیرہ، 6۔ عام طور پر ان فلموں میں کام کرنے والے اداکار فاسق و فاجر ہوتے ہیں، حالانکہ کسی نیک دین دار آدمی کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ اپنے آپ کو کسی نبی کی شکل میں پیش کرے، تو کسی فاجر و فاسق کے لیے یہ عمل کتنا قبیح ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کسی بھی نبی کی شبیہ، خاکہ، تصویر تمثیل یا کسی بھی قسم کی بصری نمائندگی بنانا ،نشر کرنا یا Al کے ذریعے تیار کرنا شرعاً جائز نہیں ، چاہے نعتوں اور نظموں کے لیے ہویا تجارتی مقاصد کے لیے ہو،اگر کسی شخص نےدیدہ دانستہ کسی نبی کا اس طرح کوئی خاکہ ، شبیہ وغیرہ بنایا ، تو اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج شمار ہوگا ، اسی طرح صحابہ اکرام ، اہل بیت اطہار، ازواج مطہرات اور دیگر مقدس شخصیات کی تمثیل ، خاکے، تصاویر یا بصری کردار تیار کرنا اور انہیں نعتوں، نظموں میں استعمال کرنا یا تجارتی مقاصد، تشہیر اور ویوز حاصل کرنے کے لیے بنانا بھی نا جائز اور حرام ہے۔ہر کلمہ گو مسلمان کے لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
عن عائشة، قالت: حكيت للنبي صلى الله عليه وسلم رجلا، فقال: ما يسرني أني حكيت رجلا، وأن لي كذا وكذا، قالت فقلت: يا رسول الله إن صفية امرأة، وقالت: بيدها هكذا، كأنها تعني قصيرة، فقال: لقد مزجت بكلمة لو مزجت بها ماء البحر لمزج. (سنن الترمذي، رقم الحديث:2502، ج:4، ص:275)
عن عائشة : أن أم حبيبة وأم سلمة ذكرتا كنيسة رأينها بالحبشة فيها تصاوير، فذكرتا للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن أولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات، بنوا على قبره مسجدا، وصوروا فيه تلك الصور، فأولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة. (صحيح البخاري، رقم الحديث:417 ، ج:1، ص:165)
عن المغيرة رضي الله عنه قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن كذبا علي ليس ككذب على أحد، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار. (صحيح البخاري، رقم الحديث:1229، ج:1/ 434)
وفي المحيط من شتم النبيﷺ وأهانه أو عابه في أمور دينه أو في شخصه أو في وصف من أوصاف ذاته سواء كان الشاتم مثلا من أمته أو غيرها، وسواء كان من أهل الكتاب أو غيره كان أو حربيا، سواء كان الشتم أو الإهانة أو العيب صادرا عنه عمدا أو سهوا أو غفلة أو جدا أو هزلا فقد كفر. (خلاصة الفتاوی، کتاب الفاظ الکفر، ج:4، ص:386)
وفي شرح الطحاوي: من سب رسول الله ﷺ أو ينقصه كان فيه ردة. (خلاصة الفتاوی، کتاب الفاظ الکفر، ج:4، ص:386)
اعلم وفقنا الله وإياك أن جميع من سب النبي صلى الله عليه وسلم أو عابه أو ألحق به نقصا في نفسه أو نسبه أو دينه أو خصلة من خصاله أو عرض به أو شبهة بشئ على طريق السب له أو الأزراء عليه أو التصغير لشأنه أو الغض منه والعيب له فهو ساب له والحكم فيه حكم الساب يقتل كما نبينه ولا نستثني فصلا من فصول هذا الباب على هذا المقصد ولا يمترى فيه تصريحا كان أو تلويحا. (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج:2، ص:214)
وكذلك من لعنه أو دعا عليه أو تمنى مضرة له أو نسب إليه ما لا يليق بمنصبه على طريق الذم أو عبث في جهته العزيزة بسخف من الكلام وهجر ومنكر من القول وزور أو عيره بشئ مما جرى من البلاء والمحنة عليه أو غمصه ببعض العوارض البشرية الجائزة والمعهودة لديه وهذا كله إجماع من العلماء وأئمة الفتوى من لدن الصحابة رضوان الله عليهم إلى هلم جرا. (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج:2، ص:214)
(فصل) وسب آل بيته وأزواجه وأصحابه صلى الله عليه وسلم وتنقصهم حرام ملعون فاعله. (الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ج:2، ص:307)
فأما من سب أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل بيته وغيرهم فقد أطلق الإمام أحمد أنه يضرب ضربا نكالا وتوقف عن قتله وكفره. (الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص567)
وخير الأمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر وعمر بعد أبي بكر وعثمان بعد عمر وعلي بعد عثمان ووقف قوم وهم خلفاء راشدون مهديون ثم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هؤلاء الأربعة خير الناس لا يجوز لأحد أن يذكر شيئا من مساويهم ولا يطعن على أحد منهم بعيب ولا نقص فمن فعل ذلك فقد وجب على السلطان تأديبه وعقوبته ليس له أن يعفو عنه بل يعاقبه ويستتيبه فإن تاب قبل منه وإن ثبت أعاد عليه العقوبة وخلده الحبس حتى يموت أو يراجع. (الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص568)