بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

رئیل اسٹیٹ کمپنی ميں قرعہ اندازی کے لیے کوپن جمع کرانا


سوال

ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی اپنے منصوبے کی تشہیر کے لیے ایک پروموشنل اسکیم متعارف کروانا چاہتی ہے،جس کی تفصیل درج ذیل ہیں جو شخص 2,000 روپے ادا کرکے Pak City کے 3 مرلہ پلاٹ اسکیم میں رجسٹریشن کرواتا ہے ، کمپنی اسے 2000کے بدلہ ایک کوپن جاری کرتی ہے، اور کمپنی اس 2000 کو پلاٹ کی ڈاؤن پےمنٹ میں ایڈجسٹ کرے گی،یعنی یہ 2000اس پلاٹ کی کل قیمت کی پیشگی ادائیگی کا ایک جز ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس خریداری کے مرحلے  میں داخل  نہیں ہوتا اور 2000 ہزار روپے دے کر وہ الگ ہونا چاہتا ہو،تواس صورت میں وہ اس کوپن کو ان احباب پر سیل کر سکتا ہے جو بکنگ کروا رہے ہیں، کمپنی کی تجویز یہ ہے کہ کمپنی عوام کی دلچسپی اور انہیں اپنے پراجیکٹ کی طرف راغب(Motivate)کرنے کے لئے ہر رجسٹرڈ شخص کا اپنی طرف سے ڈاؤن پےمنٹ میں تعاون کرے گی،جس نے ایک کوپن لیا ہے،اسے تین ہزار اور جس نے دو کوپن لیئے ہیں، اسے چھ ہزار اور جس نے تین کوپن لئے ہیں اسے نو ہزار کا کریڈٹ دے گی،اور تین کوپن کے 6ہزار ملاکر کل 15000 ڈاؤن پے منٹ شمار ہوگی،اور  جس گاہگ نے ایک کوپن لیا ہوگا،اسے بھی کمپنی پلاٹ کی  ڈاؤن پےمنٹ میں رجسٹرڈ کرلے گی،البتہ یہ گاہک 15000کی بقیہ پےمنٹ جمع کرائے گا ، پھر تمام ان لوگوں کوقرعہ اندازی (Lucky Draw) کے ذریعے مختلف انعامات دیے جائیں گے،جنہوں نے اسکیم میں اپنے آپ کو رجسٹر کروایا تھا، مثلاً: ایک گاڑی، پلاٹ،عمرہ پیکیج،موٹرسائیکل،موبائل فون اور دیگر انعامات۔اب کریڈٹ دینے کے سلسلے میں دو ممکنہ صورتیں زیرِ غور ہیں۔(الف) ہر رجسٹرڈ شخص کو 15,000 روپے کا ڈاؤن پیمنٹ کریڈٹ دیا جائے، خواہ اس کا انعام نکلے یا نہ نکلے۔(ب) صرف جن افراد کا کوئی انعام نہ نکلے انہیں 15,000 روپے کا ڈاؤن پیمنٹ کریڈٹ دیا جائے۔ مذکورہ دونوں صورتوں  میں سے کون سی صورت شرعاً جائز ہے؟ اور مذکوہ معاملہ شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر یہ جائز نہیں تو اس کی جائز صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ گاہک کو راغب کرنے کے لیے مبیع میں زیادتی اور ثمن میں کمی کی جاسکتی ہے، ، نیز بائع کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے خریداری پر انعام مقرر کرے، اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے اس کو تقسیم کرے،  بشرط یہ کہ اس انعام کی وجہ سے مبیع کی قیمت میں زیادتی نہ کی جائے، اور نہ ہی اس انعام کو مقصد بنایا جائے۔

 صورت مسئولہ میں مذکورہ تفصیلات  سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ اس سارے معاملے میں شریک ہونے والے افراد کا  مقصود کوپن لے کر قرعہ اندازی  کے ذریعے انعام حاصل کرنا ہوگا، کیونکہ اس اسکیم میں وہ لوگ بھی کوپن لے سکتے ہیں ، جن کا مقصد پلاٹ خریدنا نہیں ہوتا، جیسا کہ سوال کہ اس جملے سے معلوم ہوتاہے:"لیکن اگر کوئی شخص اس خریداری کے مرحلے  میں داخل  نہیں ہوتا اور 2000 ہزار روپے دے کر وہ الگ ہونا چاہتا ہو "۔  نیز یہ کہ اس میں  کوپن کے حصول کے لیے  جو دو ہزار روپے دیے جاتے ہیں، انعام نہ نکلنے کی صورت میں اس کی واپسی نہیں ہوتی، اگرچہ کوپن دوسرے پر فروخت کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن کوپن ایسی چیز نہیں جس کو فروخت کیا جا سکے، لہذا  یہ صورت قمار میں داخل ہوکر ناجائز رہے گی۔تاہم  اگر صرف خریداری کرنے والوں کے لیے ہی  کوپن  متعارف کروائے جائیں اور قرعہ اندازی کے ذریعےبعض کو پلاٹ کی قیمت میں ڈسکاونٹ دیا جائےیا کوئی انعام دیا جائےجب کہ باقی کی رقم کو قیمت کا حصہ بنادیا جائے، تو یہ جائزہوگا، بشرط یہ کہ اس کی وجہ سے پلاٹ کی معروف قیمت میں کوئی اضافہ نہ ہو۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾. (سورة المائدة، آيت:90)

وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى. (المحيط البرهاني، کتاب الاستحسان والکراہیة، ج:6، ص:54)

(و) صح (الحط منه) ولو بعد هلاك المبيع وقبض الثمن (والزيادة) والحط (يلتحقان بأصل العقد) ... (قوله: وصح الحط منه) أي من الثمن. (رد المحتار علی الدرالمختار،  کتاب البیوع، ج:7، ص:396)

وجواز أخذها مشروط بأن لايكون البائع زاد في ثمن البضاعة من أجل هذه الجوائز وإلا صار نوعا من القمار... وكذلك إن كان الثمن ثمن المثل، فإنه يشترط أن يكون المشتري يقصد شراء البضاعة حقيقة، ولا يشتريها لمجرد احتمال الحصول علی الجائزۃ، وإلا ففيه شبهة القمار. (فقه البيوع، الجوائز علی المبیعات، ج:2، ص:811)


فتویٰ نمبر : 6785/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں