بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

شرعی گواہوں کی موجودگی میں منعقد شدہ نکاح کو نکاح سر کہنا


سوال

فرہاد خان ولد خائستہ الرحمٰن کا نکاح "مریم بنت خان تحصیل" سے دونوں خاندانوں کی رضا مندی سے طے پایا۔ منگنی اعلانیہ ہوئی، دعوتِ ولیمہ کے ہزاروں کارڈ تقسیم کیے گئے اور بڑی تعداد میں مہمان شریک تھے۔ نکاح کے وقت نیچے ہال میں شدید رش اور شور تھا جبکہ اوپر مستورات موجود تھیں۔ اس لیے باہمی مشورے سے اسی عمارت کے درمیانی فلور کے ایک ہال میں نکاح کا انتظام کیا گیا، جس پر متعلقہ افراد نے اتفاق کیا۔ اسی ہال میں نکاح خواں، دولہا، دلہن کا شرعی وکیل اور ۷ تا ۸ عاقل، بالغ مسلمان مرد گواہ ایک ہی مجلس میں موجود تھے۔ ایجاب و قبول شرعی طریقے سے ہوا، تمام گواہوں نے واضح طور پر سنا اور آخر میں دعا بھی کی گئی۔ یہ نکاح کسی سے مخفی نہ تھا بلکہ حاضرین کو اس کا علم تھا۔ بعد ازاں ایک شخص نے یہ اعتراض کیا کہ چونکہ نکاح مجمعِ عام یا مسجد میں نہیں بلکہ عمارت کے ایک الگ ہال میں ہوا، اس لیے یہ "نکاحِ سر" (خفیہ نکاح) ہے، شرعاً درست نہیں اور "اصلی نکاح" بھی نہیں۔ ۱۔ کیا مذکورہ صورت میں فرہاد خان اور "مریم بنت خان تحصیل" کا نکاح شرعاً صحیح، منعقد اور نافذ ہو چکا ہے؟ ۲۔ کیا مجمع کے شور سے بچنے کے لیے اسی عمارت کے دوسرے فلور پر، نکاح خواں، دولہا، دلہن کے شرعی وکیل اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا شرعاً "نکاحِ سر" شمار ہوگا؟ نیز فقہِ حنفی کی رو سے ممنوع "نکاحِ سر" کی حقیقی تعریف کیا ہے؟ ۳۔ کیا یہ کہنا کہ "ایسا نکاح اصلی نہیں" یا "یہ شرعاً درست نہیں"، جبکہ اس میں نکاح کے تمام شرعی شرائط موجود ہوں، درست ہے؟ اس دعوے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ۴۔ اگر مذکورہ نکاح شرعاً صحیح، منعقد اور جائز قرار پائے، تو کیا ایسے صحیح و جائز نکاح کو بلا دلیل ناجائز، باطل، غیر شرعی یا "اصلی نکاح نہیں" کہنا، یا کسی ثابت شدہ حلال و جائز امر کو حرام یا ناجائز قرار دینا شرعاً درست ہے؟ ایسے قول کے بارے میں شریعتِ مطہرہ کی کیا ہدایت ہے؟ کیا ایسے شخص پر اپنے قول سے رجوع کرنا، اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرنا اور لوگوں کے سامنے اپنی غلطی کی اصلاح کرنا لازم یا ضروری ہے؟ جواب مع حوالہ کتبِ فقہ مرحمت فرمایا جائے۔

جواب

واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مرد عورت خود یا ان کے وکیل دو مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیں اور ایجاب و قبول کو وہ گوہ سن لیں۔ اگر گواہ موجود نہ ہوں تو گواہوں کے بغیر کیا گیا ایجاب و قبول" نکاح سر" کہلائے گا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مذکورہ نکاح میں ایجاب و قبول، فریقین کی رضامندی اور شرعی گواہوں کی موجودگی سے ہوا ہو تو نکاح منعقد ہوچکا ہے۔ عام مجمع میں نہ ہونے کی بنا پر اس نکاح کو باطل، غیر منعقد یا" اصلی نکاح نہیں" کہنا درست نہیں۔ 2۔ مجمع کے شور سے بچنے کے لیے نکاح خواں، دولہا، دلہن کے  وکیل اور شرعی گواہوں کا کسی ایک جگہ بیٹھ کر ایجاب و قبول کرنا نکاح سر میں شمار نہیں ہوتا۔ 3۔ بلا وجہ کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھرانا جائز نہیں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔

 

وما روي أنه نهى عن نكاح السر فنقول: بموجبه لكن نكاح السر ما لم يحضره شاهدان فأما ما حضره شاهدان فهو نكاح علانية لا نكاح سر إذ السر إذا جاوز اثنين خرج من أن يكون سرا. (بدائع الصنائع ، كتاب الكاح، ج:2، ص:253)

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف) اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله صلى الله عليه وسلم "لا نكاح إلا بشهود" وهو حجة على مالك رحمه الله في اشتراط الإعلان دون الشهادة.(فتح القدير، كتاب النكاح، ج:3، ص:199)

 (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3، ص21)

(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر … (قوله: من أحدهما) أشار إلى أن المتقدم من كلام العاقدين إيجاب سواء كان المتقدم كلام الزوج، أو كلام الزوجة والمتأخر قبول ح عن المنح. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3، ص:9)


فتویٰ نمبر : 7509/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں