بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

کمیٹی کی عدم ادائیگی پر امام کا خود چندے سے تنخواہ وصول کرنا


سوال

میں ایک مسجد کا امام ہو ں۔مسجد کمیٹی والوں نے میرے لئے تنخواہ مقرر کی تھی۔ کمیٹی میں سے بعض حضرات فوت ہو چکے ہیں۔اب کمیٹی کے ممبر ان مجھے مقرر کردہ تنخواہ نہیں دیتے تو کیا میں مسجد کے چندے سے اپنی مقررہ تنخواہ وصول کر سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کمیٹی کے ممبران کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مسجد کے امام کے لیے تنخواہ مقرر کریں اور بروقت اس کی ادائیگی کریں لیکن گر کمیٹی والے امام کو تنخواہ نہ دیں تو  امام  خودمسجد کو چندے سے  اپنی تنخواہ وصول کر نے کی گنجائش ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل کو مسجد کمیٹی والے  مقرر کردہ تنخواہ نہ دیں تومسجد کے چندے سے تنخواہ وصول کرنا جائز ہے،تاہم تنخواہ سے زائد نہیں لے سکتا۔

 

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الوقف، مطلب يبدأ من غلة الوقف بعمارته،ج:4،ص:366)


فتویٰ نمبر : 6781/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں