بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
پگڑی والی دکان کی واپسی پر موجودہ مارکیٹ قیمت لینا
سوال
ہمارے والد صاحب نے تقریباً 35 سال قبل ایک دکان "پگڑی" کے نظام کے تحت حاصل کی تھی۔ اس وقت معاہدہ یہ ہوا تھا کہ ایک مخصوص رقم بطور پگڑی مالک کو ادا کی جائے گی، جو مالک کی ملکیت ہوگی، اور اس کے علاوہ دکان کا ماہانہ کرایہ بھی باقاعدگی سے ادا کیا جائے گا۔ نیز یہ شرط بھی طے ہوئی تھی کہ ہر تین سال بعد کرایہ میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر کرایہ دار وقت پر کرایہ ادا نہ کرے یا معاہدے کی دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرے تو مالک کو دکان خالی کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔اسی معاہدے میں یہ بھی تحریر کیا گیا تھا کہ اگر کرایہ دار کسی وقت دکان چھوڑنا چاہے یا اپنا حقِ پگڑی منتقل کرنا چاہے تو سب سے پہلے خریدنے کا حق (حقِ اولویت) مالک کو ہوگا، اور اگر مالک خریدنے سے انکار کرے تو اس کے بعد کسی دوسرے شخص کو منتقل کیا جا سکے گا۔ نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ ہم نے دکان میں اپنے خرچے سے اس میں کچھ پیسے لگائے ہیں ۔اب موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ مالک خود دکان واپس لینا چاہتا ہے اور ہم سے دکان خالی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جب ہم دکان مالک کے حوالے کریں گے تو کیا ہمیں صرف وہی رقم لینے کا حق ہوگا جو 35 سال پہلے بطور پگڑی ادا کی تھی، یا موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق پگڑی یا حقِ کرایہ داری کی موجودہ قیمت (مثلاً دو لاکھ روپے یا جو بھی موجودہ قیمت بنتی ہو) لینے کا حق ہوگا؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ مروجہ پگڑی کا معاملہ شرعاً خرید و فروخت یا کرایہ داری کا معاملہ نہیں ، بلکہ یہ ایک غیر شرعی معاملہ ہے۔ اس لیے اس قسم کا معاہدہ ابتداءً درست نہیں۔ پگڑی کی بنیاد پر دکان یا مکان لینے سے کرایہ دار اس دکان کا شرعاً مالک نہیں بنتا، بلکہ دکان بدستور اصل مالک ہی کی ملکیت رہتی ہے، جبکہ پگڑی دینے والا صرف اپنی ادا کردہ رقم کا حق دار ہوتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد 35 سال قبل دکان پگڑی پر لینے سے اس دکان کے مالک نہیں بنےتھے ،لہٰذا جب مالک اپنی دکان واپس لے تو صرف اتنی ہی رقم کے مطالبہ کا حق دار ہوگا جو اس کے والد صاحب نے بطور پگڑی ادا کی تھی۔ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق پگڑی کا مطالبہ شرعاً درست نہیں، بلکہ صرف اپنی ادا کردہ پگڑی کی رقم کا حق دار ہوگا۔ البتہ اگر معاہدہ کی رو سے ابتداءً ادا کی گئی پگڑی کی رقم کرایہ کا حصہ تھا، یعنی وہ رقم مالک کو بطور پیشگی کرایہ دی گئی ہو اور اس کے بدلے کرایہ دار کو مدتِ اجارہ میں نفع کا حق حاصل ہوا ہو، تو ایسی صورت میں وہ رقم مالکِ دکان کی ملکیت بن چکی ہے ، لہٰذا کرایہ داری ختم ہونے کے بعد کرایہ دار اس رقم کا مطالبہ کرنے کا بھی شرعاً حق دار نہیں ہوگا۔
البتہ اگر دکان میں سائل یا اس کے والد صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے کوئی چیز لگائی ہو تو ایسی صورت میں باہمی رضامندی سے اس کی قیمت وصول کی جا سکتی ہے، یا اگر انہیں الگ کرنا ممکن ہو اور اس سے دکان کو نقصان نہ پہنچتا ہو تو انہیں الگ کرنے کا بھی حق ہوگا۔
وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة."
(قوله: وفيها) :مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها."(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، ج:4، ص: 518)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں