بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غسل میں کندھوں کےبالوں کوملنا


سوال

غسل کرتےوقت کندھوں پرجوبال ہوتےہیں،جنہیں ہاتھوں سےملنادشوارہوتا ہے، ان کےساتھ کیا کیا جائے؟

جواب

واضح رہےکہ غسل میں فرض یہ ہےکہ پورےبدن پراس طرح پانی بہایاجائےکہ بال برابربھی کوئی جگہ خشک نہ رہےاورپانی جسم کےہرحصے، بالوں اوران کی جڑوں تک پہنچ جائے، لیکن غسل میں بدن یا بالوں کوملنا ضروری نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں غسل کےدوران کندھوں کےبالوں پرپانی بہانا ضروری ہے، ہاتھوں سےملنا شرعاً لازم نہیں۔

 

(وأما) ركنه فهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبها الماء لم يجز الغسل.( بدائع الصنائع،كتاب الطهارة،فصل الغسل،ج:1،ص:227)

(قوله: لا دلكه) أي لا يفترض دلك بدنه في الغسل، وقد تقدم أنه إمرار اليد على الأعضاء المغسولة، فلو أفاض الماء فوصل إلى جميع بدنه، ولم يمسه بيده أجزأه غسله.( البحر الرائق،كتاب الطهارة،احكام الغسل،ج:1،ص:90)


فتویٰ نمبر : 11052/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں