بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو تین طلاق صریحی دینا


سوال

میرا نام تاج الدین ہے، میرے والد کا نام محمد سراج الدین ہے۔ میرا گاؤں فتح پور پانچواں کھنڈ (گوگھار فود) ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو ایک شخص سے فون پر بات کرنے سےمنع کیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اس سے فون پر بات کرتی رہی۔ میں نے اس شخص کو میرے گھرآنے سے بھی منع کیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ میرے گھرآیا۔ پھر میں نے اپنے گھر والی سے کہا کہ تم ایسا کام نہ کرو۔ اگر تم ایسا کرو گی ،تو میں تمہیں تباہ کر دوں گا، لیکن اس نے میری بات نہ مانی۔ اس کے بعد میں نے کہا: "ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق "۔اس کا شرعی حکم واضح کریں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہے،تو اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔اسی طرح اگر تین یا تین سے زیادہ مرتبہ اپنی بیوی کو کہے،تو اس سے بیوی کو طلاق مغلظ واقع ہوجائی گی ،اورپھر شوہر کے لیے بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔   

 صورت مسئولہ میں اگر سائل نے تین مرتبہ بیوی کو مخاطب کرکے طلاق کے الفاظ   کہے ہوں ، تو بیوی کوطلاق مغلظ واقع ہوچکی ہےاورسائل کے لیےاس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائزنہیں۔

 

وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا ۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:355)  


فتویٰ نمبر : 7515/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں