بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اپنے نام کے ساتھ سردار یا عباسی لکھنا


سوال

میرا ایبٹ آباد سے تعلق ہے اور ہم قبیلہ ڈھونڈ عباسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ میرے والد ، دادا اور ہمشیرہ کے نام کے ساتھ عباسی لکھا ہوا ہے مگر میرے والد مجھے منع کرتے ہیں  کہ عباسی لکھوانا یا کہلوانا متکبرانہ فعل ہے لہذا مت لکھا کرو، کیا مجھے اپنی دستاویزات میں نام کے ساتھ عباسی لکھوانا چاہیے یا نہیں ۔ نیز ایبٹ آباد کے دیہاتوں کے ہم نسلوں سے مالک ہیں اور باقی قبائل سے الگ شناخت کے لئے  سردار نام کے ساتھ لکھوانا درست ہوگا یا نہیں تاکہ معلوم ہو کہ مزارعین یا کسی اور قبیلے سے تعلق نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ انسان کی شناخت مختلف بنیادوں پر ہوتی ہے، جیسے اس کا ذاتی نام، والد کا نام، خاندان، قبیلہ، برادری، علاقہ یا پیشہ وغیرہ۔ تاہم ایک مسلمان کے لیے فضیلت کا  اصل معیار نسب یا لقب نہیں بلکہ تقویٰ اوراخلاق ہے۔ اسی وجہ سے بعض اہلِ علم اور بزرگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اگر کسی لقب یا نسبت کے استعمال سے تکبر، تفاخر یا دوسروں پر برتری جتانے کا پہلو پیدا ہو تو اس سے اجتناب کیا جائے، تاہم اگر مقصد صرف صحیح خاندان یا قبیلہ کی شناخت، نسب کی حفاظت یا قانونی و سماجی تعارف ہو تو اس میں  کوئی حرج نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا تعلق حقیقتاً عباسی برادری سے ہو تو وہ سرکاری دستاویزات یا دیگر قانونی ریکارڈ میں اپنے نام کے ساتھ "عباسی" لکھ سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر "سردار" اس کے خاندان یا سماجی شناخت کا درست لقب ہو تو اسے بھی اپنے نام کے ساتھ لکھنا جائز ہے، البتہ اس سے دوسروں پر فخر جتانا، برتری ظاہر کرنا یا تکبر کا اظہار مقصود  نہ ہو، بلکہ صرف صحیح خاندانی یا قبائلی شناخت واضح کرنا مقصود ہو۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ یہ نسبت اور لقب حقیقت پر مبنی ہوں، ان میں کسی قسم کا جھوٹ یا غلط دعویٰ شامل نہ ہو۔

 

قال الله تعالى:﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾۔۔۔ وفي هذه الآية ما يدلك على أن التقوى هي المراعى عند الله تعالى وعند رسوله دون الحسب والنسب.( الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،ج:16،ص:340)

واتفقوا على جواز ذكره بذلك على جهة التعريف لمن لا يعرفه إلا بذلك ودلائل كل ما ذكرته مشهورة۔۔۔۔۔ واتفقوا على استحباب اللقب الذي يحبه صاحبه فمن ذلك أبو بكر الصديق اسمه عبد الله بن عثمان ولقبه عتيق.(المجموع شرح المهذب،كتاب الحج،باب العقيقة، 8/ 441) 


فتویٰ نمبر : 6777/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں