بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پرنٹ مشین کی سیاہی پر زکوۃ


سوال

عموماً بڑے پریس والے چھپائی کے لئے روشنائی کا بڑا اسٹاک پہلے سے خرید کر رکھ لیتے ہیں تو اس روشنائی پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فقہائے کرام نے پیشہ ور افراد کے آلات اور استعمالی سامان کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ اشیاء جو صرف کام لینے کے آلات ہیں استعمال کرنے سے ان کا اصل باقی رہتا ہو جیسے مشینری۔ اور دوسری وہ اشیاء ہیں جو کام کے دوران استعمال ہو کر ختم ہو جاتی ہیں پھر ان کی دو قسمیں ہے ایک وہ جن کا عین اور اثر باقی نہیں رہتا جیسے: دھوبی کا صابن، سرف وغیرہ اور دوسری وہ جس کا اثر باقی رہتا ہو جیسے: رنگساز کا رنگ یا کاتب کی سیاہی وغیرہ۔ ان میں سے پہلی دو چیزوں (یعنی مشینری اور جس چیز کا عین و اثر باقی نہیں رہتا) میں زکوۃ واجب نہیں جب کہ تیسری چیز (یعنی جس کا عین ختم ہو لیکن اثر باقی رہے) اس میں زکوۃ لازم ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں پرنٹنگ پریس کے لیے پہلے سے خرید کر ذخیرہ کی گئی روشنائی میں زکوۃ واجب ہوگی کیونکہ یہ ان اشیاء میں داخل ہے جن کا اثر باقی رہتا ہے۔

 

(قوله: وكذلك آلات المحترفين) أي سواء كانت مما لا تستهلك عينه في الانتفاع كالقدوم والمبرد أو تستهلك، لكن هذا منه ما لا يبقى أثر عينه، كصابون وجرض الغسال، ومنه ما يبقى كعصفر وزعفران لصباغ ودهن وعفص لدباغ فلا زكاة في الأولين لأن ما يأخذه من الأجرة بمقابلة العمل. وفي الأخير الزكاة إذا حال عليه الحول لأن المأخوذ بمقابلة العين كما في الفتح. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الزكاة، ج:3،ص:183، مكتبة:دار الفكر بيروت)


فتویٰ نمبر : 11058/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں