بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلباء کے وظیفہ میں سے غیر حاضری پر پیسے کاٹنا


سوال

 مدرسہ کے طلباء کو ضروریات کے لیے کمپنی سے ماہانہ وظیفہ آتا ہے، اب طلباء اور کمپنی کی اجازت کے بغیر بطور جرمانہ غیر حاضری پر پیسے کاٹنا اور اس کو مدرسہ کا فنڈ مقرر کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مدرسے کے منتظمین چندہ دہندہ گان کی طرف سے طلباء کو صدقہ وغیرہ کا مال پہنچانے کے وکیل ہوتے ہیں، اس میں اصل حق طلباء کا ہوتا ہے، اس لیے ان کے حق میں ان کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں کمپنی کی طرف سے طلباء کو جو وظیفہ ملتا ہے، طلباء كو ديئے بغير اس کو غیر حاضری کے جرمانہ میں کاٹ کر مدرسہ کا فنڈ بنانا جائز نہیں۔

 

 ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه. (بدائع الصنائع، ج:2، ص:234)


فتویٰ نمبر : 6784/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں