بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خود رو گھاس کےعوض متعین رقم لینا


سوال

ٓہمارے علاقے میں ایک پہاڑ ہے جس کی ملکیت ایک خان کے پاس ہے۔ علاقے کے لوگوں نے اس میں اپنے لیے حصے متعین کیے ہیں، جس سے وہ گھاس کاٹتے ہیں اور خان کو اس متعین حصے کے سات، آٹھ سو روپے قلنگ دیتے ہیں۔ یعنی خان ان لوگوں پر وہ گھاس بیچتا ہے کہ ہر سال آپ مجھے سات یا آٹھ سو روپے دیں گے اور آپ اس متعین جگہ سے گھاس کاٹیں گے۔ اور خان نے ان کو یہ بھی بتایا ہے کہ آپ اس گھاس کو کسی اور کو اس سے زیادہ پر نہیں فروخت کر سکتے۔ اگر آپ اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں تو مجھے وہ جگہ واپس کریں گے، میں خود کسی اور کو وہ گھاس وہی سات سو کے فروخت کروں گا۔ان میں سے اکثر لوگ وہ گھاس دوسروں کو بیچتے ہیں اور ان سے قلنگ سے زیادہ، مثلاً تین ہزار، چار ہزار روپے لیتے ہیں۔ کیا ان کے لیے خان کی اجازت کے بغیر اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو گھاس کسی زمین یا پہاڑ میں خوبخود اُگے تو اس کو کاٹنے سے پہلے فروخت کرنا یا کسی سے اس کے عوض رقم وصول کرنا جائز نہیں ۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں پہاڑ کے خود رو گھاس کو بیچنا جائز نہیں، البتہ جو اس کو کاٹ کر لے جائے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے لہذا وہ اسے زیادہ قیمت پر بیچ سکتا ہے۔

 

 (والمراعي) أي الكلأ (وإجارتها) أما بطلان بيعها فلعدم الملك لحديث الناس شركاء في ثلاث في الماء والكلأ والنار. (رد المحتار علی الدر المختار، باب البيع الفاسد، جا؛5، ص:66)

وأما الكلأ الذي ينبت في أرض مملوكة فهو مباح غير مملوك إلا إذا قطعه صاحب الأرض وأخرج فيملكه، هذا جواب ظاهر الرواية عن أصحابنا رضي الله عنهم.وقال بعض المتأخرين من مشايخنا رحمهم الله: أنه إذا سقاه وقام عليه ملكه والصحيح جواب ظاهر الرواية؛ لأن الأصل فيه هو الإباحة لقوله عليه الصلاة والسلام "الناس شركاء في ثلاث الماء والكلأ والنار "والكلأ اسم لحشيش ينبت من غير صنع العبد، والشركة العامة هي الإباحة إلا إذا قطعه وأحرزه لأنه استولى على مال مباح غير مملوك فيملكه كالماء المحرز في الأواني والظروف وسائر المباحات التي هي غير مملوكة لأحد. (بدائع الصنائع، كتاب الأراضي، ج:6، ص:193)


فتویٰ نمبر : 4178/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں