بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک مشت سےزائد داڑھی کاٹنا


سوال

میں نےکالج کےزمانےمیں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ میں داڑھی نہیں کاٹوں گا، اب داڑھی کافی بڑی ہوگئی ہے۔ میں حنفی ہوں۔ کیا ایک مشت سےزائد حصہ کاٹنا میرے لیے جائز ہےیا میرےاس وعدے کی وجہ سےبالکل بھی کاٹناجائزنہیں؟

جواب

واضح رہےکہ داڑھی کی شرعی مقدار ایک مشت ہےاس سےکم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ جب داڑھی طویل ہوجائےتواس کو مٹھی میں پکڑ کرایک مشت سےزائد حصےکوکاٹنا شرعاًجائزہے۔

 لہذاصورتِ مسئولہ میں داڑھی کےوہ بال جوایک مشت سےزائد ہیں، انہیں کاٹ کر سنت کےمطابق رکھنا جائزہوگا۔

 

ولا بأس إذا طالت لحيته أن يأخذ من أطرافها ولا بأس أن يقبض على لحيته فإن زاد على قبضته منها شيء جزه وإن كان ما زاد طويلة تركه كذا في الملتقط. والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فإن زاد منها على قبضته قطعه كذا ذكر محمدرحمه الله تعالى في كتاب الآثار عن أبي حنيفةرحمه الله تعالى قال وبه نأخذ كذا في محيط السرخسي. (الفتاوی الھندیۃ،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص:358)


فتویٰ نمبر : 6778/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں