بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
معذور شخص کا امام بننا
سوال
میں مدرسے کا ایک طالب علم ہوں اور پچھلے دو سال سےمیں خروج ریح کی بیماری میں شدت سے مبتلا رہا ہوں ۔ حالت یہ تھی کہ میں ہر نمازسے تقریبا دو تین منٹ پہلے وضوکر لیا کرتا تھا مگر سلامتی وضوکے ساتھ نماز پوری کرنے پر قادر نہ تھا ۔ نہایت کنٹرول کے باوجودبھی میں ہواخارج ہونے سے روکنے پر قوت نہیں رکھتا تھا ۔ شاید ہی کوئی نماز ایسی گزرتی ہو جو میں نے بحالت کامل وضوپوری کر لی ہو وگرنہ عام طور پر یہی مسئلہ تھا ۔ مطالعہ کی خاموش فضامیں مجھے نہایت کنٹرول رکھنا پڑتا تھا اور شدت سے مطالعے کے وقت کے ختم ہونے کا انتظار کرتا تھا ۔ نیز جب رات کو بستر پر جاتا تو دو رکعت پڑھنے کی تمنا رہتی، مگر اس میں بھی مجھے دوبار او رکبھی سہ بار وضوکرنا پڑتا ۔ آخر کار میں یہ سمجھ بیٹھا کہ میں شرعی معذور ہوں اور ہر نماز سے دو تین منٹ پہلے وضوکرتا مگر پھر وضوٹوٹنے کی کچھ پرواہ نہ کرتا اور آرام سے نماز پوری کر لیتا . نیز اس دوران ایک اہم مسئلہ یہ پیش آیا کہ جب کبھی چھٹیوں میں میں گاؤں چلا جاتا تو کبھی کبھار نماز پڑھا دیا کرتا ، اگرچہ میں نہایت کوشش کرتا کہ کسی صورت آگے نہ بڑھوں ،مگر کبھی کبھی آگے بڑھنا پڑهی جاتا اور میں نماز اسی حالت میں پڑھا دیتا جس کا تذکرہ اوپر کر چکا ہوں ۔ یہاں آکر شرم و حیامجھے مانع ہو جاتی کہ کسی اور کے نہ ہوتے ہوئے آگے بڑھنے سے انکار کیسے کروں ۔ اب ان تمام حالات کو مدنظر رکھ کر درج ذیل سوالات پیش خدمت ہیں ۔ آپ حضرات رہنمائی فرماکر مشکور فرمائیں: اس بیماری میں ، میں شرعا معذور تھا یا نہیں ؟ جن نمازوں میں میں نے جماعت کرائی ان میں مقتدیوں کی نماز درست ہے یا نہیں . اگر نہیں تو ان کی قضاکی کیا صورت ہو جبکہ نہ نمازیں معین معلوم ہیں نہ مقتدیوں کی مکمل معرفت ہے اور اور نہ نمازوں کی تعداد یادہے۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص خون آنے ،ریح نکلنے یا قطرے وغیرہ نکلنے کی وجہ سے ایک نماز کے مکمل وقت میں اتنا وقت بھی نہ پائے،کہ طہارت کاملہ کے ساتھ وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسا شخص شرعاََ معذور سمجھا جائے گا ،اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت میں ایک مرتبہ وضو کرلے ، پھر اس وضو سے اس وقت میں جتنی چاہے فرائض اور نوافل ادا کر سکتاہے۔نیز ایسے معذور شخص کا ا مام بننا جائز نہیں ، اگر امام بن گیا ،تو اس کی اقتدا کرنے والوں کی نماز درست نہ ہوگی ۔
صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا یہ کہنا کہ میں ریح کی وجہ سے سلامتی وضو کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر نہ تھا ،اس صورت حال میں شرعاََ معذورسمجھا جائے گا ۔ ایسی حالت میں سائل کے لیے امام بننا درست نہیں تھا ،اس لیے اس حالت میں اقتدا کرنے والوں کی نمازیں ادا نہیں ہوئیں، لہذا ان کی قضاان پر لازم ہے ۔ لہذا سائل کے لیے ضروری ہے کہ مسجد میں مقتدیوں کو اعلان کرے ،تو پھر جنہوں نے سائل کی اقتدا میں نمازپڑھی ہو،تو ان پر قضا لازم ہوگا، اور تعداد کا فیصلہ ظن غالب پر کیا جائے ۔
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة(وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لانه الانقطاع الكامل.( وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) اللام للوقت كما في – لدلوك الشمس.(الاسراء: 81) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى ۔ (الدر المختار شرح تنوير الأبصار،کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ص45)
(وكذا لايصح الاقتداء بمجنون مطبق أو متقطع في غير حالة إفاقته وسكران) أو معتوه ذكره الحلبي (ولا طاهر بمعذور)۔(الدرالمختار،کتاب الصلوۃ ،باب الإمامة،ص:79 )
وأما إذا صلى خلف من به السلس وانفلات ريح لا يجوز۔۔۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب الإمامة،ج:1،ص:578)
من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ص447)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں