بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں توکیل الوکیل


سوال

ایک آدمی دوسرے کو نکاح کا وکیل بنائے تو کیا وکیل اپنی جگہ کسی اورکو وکیل بنا سکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا "زوجني بفلان بكذا من المهر"اور" زوجني بمن شئت وحيث شئت بكم شئت" ان دونوں صورتوں میں توكيل الوكيل بالنكاح میں کوئی فرق آئے گا یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ جس طرح کسی شخص کا خود نکاح کرنا جائز ہے، اسی طرح اس کے لیے کسی اور کو وکیل بنانا بھی جائز ہے۔ تاہم وکیل مؤکل كی اجازت كے بغير دوسرے كو وكيل نہيں بناسكتا۔

لہذا اگر مؤکل اپنے وکیل کو کہے کہ "زوجني بفلان بكذا من المهر" یا یوں کہے کہ "زوجني بمن شئت وحيث شئت بكم شئت" دونوں صورتوں میں مؤکل کی اجازت کے بغیر وکیل کسی دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا۔

 

"وليس للوكيل أن يوكل فيما وكل به"...قال: "إلا أن يأذن له الموكل"؛ لوجود الرضا، "أو يقول له: اعمل برأيك"؛ لإطلاق التفويض إلى رأيه، وإذا جاز في هذا الوجه يكون الثاني وكيلا عن الموكل. (الهداية شرح البداية المبتدي، كتاب الوكالة، ج:5، ص:518، مكتبة:مكتبة البشرى)


فتویٰ نمبر : 7506/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں