بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مالک کے حکم پر ملازم کا اسرائیلی مصنوعات خریدنا
سوال
میں اسلام آباد میں ایک بندے کے ساتھ ماربل شوروم پر ملازمت کرتا ہوں، وہاں کے بڑے گھرانوں کے لوگ عموما اسرائیلی مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی کسٹمر بن کر آتا ہے تو دکان مالک مجھے نیسلے، پیپسی وغیرہ لے آنے کا کہتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ میں نہ تو خود استعمال کرتا ہوں، نہ اس پر میرے پیسے خرچ ہوتے ہیں، نہ اس دکان میں ان مصنوعات کی خرید وفروخت ہوتی ہے، کیونکہ یہ ماربل شوروم ہے۔ اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے لانا چاہئے کہ نہیں؟ جبکہ دوسری طرف کسٹمر کے لیے چائے پانی کا انتظام بھی میری ذمے داریوں میں سے ہے۔
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا حکم دیا ہے اور گناہ و ظلم کے کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔ نیز فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ پر اعانت دو طرح کی ہوتی ہے ایک براہ راست اور دوسری بالواسطہ لہذا جو عمل بذات خود گناہ کا سبب بنے اس سے اجتناب لازمی ہے البتہ جو کام فی نفسہ مباح ہو اور اس میں نہ تو معصیت کا ارادہ ہو اور نہ ہی براہ راست گناہ پر تعاون ہوتو اس میں گناہ نہیں۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل جب ماربل شوروم پر ملازمت کرتا ہے اور وہ مالک کے کہنے پر شوروم کے گاہکوں کی ضیافت کے لیے نیسلے، پیپسی وغیرہ لائے تو شرعی لحاظ سے یہ عمل براہ راست گناہ میں تعاون پر مشتمل نہیں ہے، لہذا گناہ گار نہ ہوگا۔
قال الله تعالى:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدة: 2]
القاعدة التاسعة عشرة: إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعديا بما أتلف بإلقاء غيرهولا يضمن من دل سارقا على مال إنسان فسرقه. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:135)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں