بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میراث میں بنت کے ساتھ اخت خیفی کی محرومی اور عینی اور علاتی کا عصبہ بننا


سوال

میراث کے مسائل میں سے یہ ہے کہ بنت کے ساتھ جب اخت خیفی آ جائے تو اخت خیفی محروم ہو جاتی ہے لیکن اگر بنت کے ساتھ اخت عینی یا علاتی آ جائے تو عصبہ بن جاتی ہے۔ حل طلب امر یہ ہے کہ اخت خیفی کی محروم ہونے کی وجہ کیا ہے اگر وجہ یہ ہے کہ اخت خیفی کو حصہ تب ملتا ہے جب میت کلالہ ہو اور بنت کی موجودگی میں میت کلالہ نہیں ہوتا تو اخت عینی اور علاتی کے حصہ کے لیے بھی قرآن نے میت کے کلالہ ہونے کی شرط لگائی ہے جب وہ دونوں علی الترتیب بنت کی موجودگی میں عصبہ بن جاتی ہے۔ اگر ان کا عصبہ بننا حدیث "اجعلوا الاخوات مع البنات عصبة" کی وجہ سے ہے تو آیا حدیث مذکور اس درجہ کی ہے کہ اس سے قرآن کے لفظ "کلالہ" کے مفہوم پر زیادتی کی جائے؟

جواب

واضح رہے کہ سورہ نساء کی آیت 12میں اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی کی میراث کا حکم مذکور ہے کہ اگر میت کلالہ ہو یعنی نہ اس کے باپ دادا میں سے کوئی ہو اور نہ کوئی مذکر یا مؤنث اولاد یا مذکر اولاد کی اولاد ہو تو اس صورت میں اخیافی بہن بھائی وارث ہوں گے اور ان کو سدس یا ثلث ملے گا لیکن اگر میت کی مذکر یا مؤنث اولاد موجود ہو تو وہ کلالہ نہ ہوگا۔ لہذا اخیافی بہن بھائی میراث سے محروم ہوں گے اسی پر علماء کا اجماع بھی ہے۔  

جہاں تک علاتی بہن بھائیوں کی میراث کا مسئلہ بیان ہوا ہے تو وہ سورہ نساء کی آیت 176میں مذکور ہے کہ کوئی شخص اس حال میں مر جائے کہ اس کی اولاد نہ ہو، اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکے میں سے آدھے کی حق دار ہوگی ۔ اور اگر بہنیں دو ہوں تو بھائی کے ترکے سے وہ دو تہائی کی حق دار ہوں گی اور اگر بہن مر جائے، اور اس کا بھائی زندہ ہو تو بھائی بہن کے پورے مال کا وارث ہوگا۔ اور اگر زندہ ورثاء میں بھائی بھی ہوں اور بہنیں بھی، تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔

اور اگر میت کی مذکر یا مؤنث اولاد موجود ہو تو وہ کلالہ نہ ہوگا لہذا پھر عینی و علاتی بہن بھائیوں کا حکم بدل جائے گا جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مذکر اولاد ہو تو وہ بالکل محروم ہو جائیں گے کیونکہ مذکر اولاد عصبہ اقرب ہے اور عصبہ اقرب عصبہ ابعد کو محروم کر دیتا ہے۔ اور اگر صرف مؤنث اولاد یعنی بیٹیاں ہوں تو صرف بیٹیاں چونکہ عصبہ نہیں ہوسکتیں اس لیے ان کو حصہ دینے کے بعد اگر کچھ حصہ بچ جائے تو وہ عصبات کو دیا جائےگا۔پھر عصبات میں سے اگر مذکر اولاد نہ ہو اور اصول میں سے اب اور جد صحیح بھی نہ ہو تو عصبات کے تیسرے درجے میں عینی و علاتی بھائی ہیں چنانچہ ان کو بقیہ ترکہ ملے گا۔ اور اگر بھائی کے ساتھ بہن بھی ہو تو وہ بھی عصبہ بالغیر ہو کر اپنے بھائی کے ساتھ للذکر مثل حظ الانثیین کے تناسب سے حقدار ہوگی اور اگر میت کی بیٹیوں کے ساتھ اس کا بھائی نہ ہو صرف بہنیں ہوں تو چونکہ بہنوں میں عصبہ بننے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ عصبہ بالغیر بنتی ہیں اس لیے وہ بیٹیوں کے ساتھ عصبہ مع الغیر ہو جایئں گی اور ان کوذوالفرض سے بقیہ ترکہ مل جائے گا۔ اور یہ حصہ حدیث شریف سے ثابت ہے چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لڑکی، پوتی اور بہن کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فیصلہ نبوی کے مطابق لڑکی کو نصف اور پوتی کو سدس(تکملۃ للثلثین ) دیا جب کہ باقی ماندہ حقیقی بہن کو دیا یعنی بہن کو عصبہ مع الغیر بنایا۔

اب عینی و علاتی بہنوں کی طرح اخیافی بہن صرف بیٹیوں کی موجودگی میں عصبہ کیوں نہیں بنتی؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عصبہ بالغیر نہیں ہوتی یعنی اپنے بھائی کے ساتھ وہ عصبہ نہیں ہوتی بلکہ دونوں ذی الفرض ہوتے ہیں نیز ان دونوں میں تقسیم بھی للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ" ھم شرکاء فی الثلث "کے ارشاد کی روشنی میں اخیافی بہن بھائی کا یکساں حصہ ہوتا ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ اولاد اُم میں عصبہ بننے کی صلاحیت ہی نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ام کے واسطے سے ہیں اور ان کا واسطہ یعنی ام کسی صورت میں عصبہ نہیں تو ذوالواسطہ بھی عصبہ نہیں ہوسکتا۔ جبکہ عینی و علاتی بہن بھائی عصبہ بنتے ہیں کیونکہ ان کا واسطہ اب ہے اور وہ عصبہ بنتا ہے لہذا ذوالواسطہ میں بھی یہ صلاحیت ہے۔ چنانچہ اسی فرق کی بنا پر عینی و علاتی بہن تو بنات کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں جبکہ اخیافی بہن نہیں۔

 

قال الله تعالى:﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ﴾ [النساء: 12]

فأما هذه الآية فأجمع العلماء على أن الإخوة فيها عنى بها الإخوة للأم، لقوله تعالى: (فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث). (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي ، سورة النساء، الآية:12، ج:5، ص:78)

و قال تعالى:﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [النساء: 176]

وأن المراد بالإخوة هنا الإخوة للأب والأم] أو للأب . (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، سورة النساء، الآية: 176، ج:6، ص:28)

وأجمعوا على أن الكلالة من مات ليس له ولد ولا والد. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، سورة النساء، الآية:12، ج:5، ص:76)

وروي عن عمر بن الخطاب أن الكلالة من لا ولد له خاصة، وروي عن أبي بكر ثم رجعا عنه. وقال ابن زيد: الكلالة الحي والميت جميعا. وعن عطاء: الكلالة المال. قال ابن العربي: وهذا قول طريف لا وجه له. قلت: له وجه يتبين بالإعراب (آنفا 3). وروي عن ابن الأعرابي أن الكلالة بنو العم الأباعد. وعن السدي أن الكلالة الميت وعنه مثل قول الجمهور. (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي، سورة النساء، الآية:12، ج:5، ص:77)

حدثنا آدم، حدثنا شعبة، حدثنا أبو قيس: سمعت هزيل بن شرحبيل قال: سئل أبو موسى عن ابنة وابنة ابن وأخت، فقال: للابنة النصف، وللأخت النصف، وأت ابن مسعود فسيتابعني، فسئل ابن مسعود، وأخبر بقول أبي موسى فقال: لقد ضللت إذا وما أنا من المهتدين، أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه وسلم: للابنة النصف، ولابنة ابن السدس تكملة الثلثين، وما بقي فللأخت، فأتينا أبا موسى فأخبرناه بقول ابن مسعود، فقال: لا تسألوني ما دام هذا الحبر فيكم.(صحيح البخاري، باب ميراث ابنة الابن مع بنت، رقم الحدیث: 6736، ج:8، ص:151)

ويسقط بنو الأخياف) وهم الإخوة والأخوات لأم (بالولد وولد الابن) وإن سفل (وبالأب والجد) بالإجماع لأنهم من قبيل الكلالة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، فصل في العصبات، ج:6، ص:782)

(قوله: الأخوات مع البنات) أي الأخوات لأبوين أو لأب، أما الأخت لأم فلا يعصبها أخوها، وهو ذكر فعدم كونها عصبة مع الغير أولى (قوله: لقول الفرضيين إلخ) جعله في السراجية وغيرها حديثا قال في سكب الأنهر: ولم أقف على من خرجه، لكن أصله ثابت بخبر ابن مسعود رضي الله عنه وهو ما رواه البخاري وغيره في بنت وبنت ابن وأخت للبنت النصف، ولبنت الابن السدس، وما بقي فللأخت وجعله ابن الهائم في فصوله من قول الفرضيين وتبعه شراحها كالقاضي زكريا وسبط المارديني وغيرهما. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، فصل في العصبات، ج:6، ص:776)

قال رحمه الله (والبنت تحجب ولد الأم فقط) أي بنت الميت تحجب الإخوة والأخوات من الأم وحدهم ولا تحجب الإخوة من الأبوين أو من الأب لما أن شرط إرثهم الكلالة، ولا كلالة مع الولد والبنت ولد فتحجبهم، وكذا بنت الابن لما أن ولد الابن ولد فإن قيل وجب أن لا ترث الإخوة والأخوات من الأبوين أو من الأب مع البنت أو بنت الابن لأن إرثهم مشروط بالكلالة.قلنا الكلالة شرطت في حقهم لإرث النصف أو الثلثين أو لإرث الكل بالعصوبة فإذا انتفت الكلالة انتفى هذا الإرث المشروط بها لا مطلق الإرث فيستحقون الإرث بالعصوبة مع البنت بنص آخر على ما بينا بخلاف إرث أولاد الأم فإن جميع إرثهم مشروط بالكلالة فينتفي بعدمها. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الفرائض، ج:6، ص:237)


فتویٰ نمبر : 3855/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں