بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے مینار کی اونچائی اور تعداد


سوال

مسجد کے مینار کی اونچائی کتنے فٹ ہونی چاہیے؟ اور ایک مسجد کے 2 مینار کافی ہیں؟

 

جواب

مینار کا بنیادی مقصد دور سے اذان کی آواز پہنچانا اور لوگوں کو مسجد کی شناخت کرانا ہے تاکہ مسافر یا ناواقف شخص اسے دیکھ کر مسجد پہچان سکے۔ تاہم شریعتِ مطہرہ میں مسجد کے مینار کی کوئی خاص اونچائی (فٹ یا میٹر میں) متعین نہیں۔ اسی طرح میناروں کی تعداد کے بارے میں بھی شریعت میں کوئی پابندی  نہیں۔ علاقائی ضرورت، اردگرد کی عمارتوں کی بلندی، اور مسجد کے حجم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جتنا مناسب سمجھا جائے، اتنی اونچائی رکھی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں فضول خرچی، نمود و نمائش یا فخر کا پہلو شامل نہ ہو۔

 

وأما بناء منارة المسجد من غلة الوقف إن كان بناؤها مصلحة للمسجد بأن يكون أسمع للقوم فلا بأس به. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، ج:5، ص:322)

قال في شرح الدرر والغرر وفي أوائل السيوطي: إن أول من رقي منارة مصر للأذان شرحبيل بن عامر المرادي وفي عرافته بني سلمة المنائر للأذان بأمر معاوية ولم تكن قبل ذلك وقال ابن سعد بالسند إلى أم زيد بن ثابت كان بيتي أطول بيت حول المسجد فكان بلال يؤذن فوقه من أول ما أذن إلى أن بنى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فكان يؤذن بعد على ظهر المسجد، وقد رفع له شيء فوق ظهره. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب الأذان، ج:1، ص:272)


فتویٰ نمبر : 6779/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں