بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پہلی بیوی کی ناراضگی کی صورت میں دوسری شادی کرنا


سوال

میری دوسری شادی کرنے کی خواہش ہے، لیکن بیوی نہیں مان رہی۔ اسے ڈر ہے کہ گھر اجڑ جائے گا اور خراب ہو جائے گا، جبکہ میری خواہش ہے کہ میں دو اور شادیاں کر لوں۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا بیوی کی ناراضگی کی وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرنا چاہیے؟

 

جواب

شریعت مطہرہ میں مرد کو ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ وہ ان کے درمیان برابری اور انصاف قائم رکھ سکتا ہو۔نيز  دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی  شرط نہیں ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ا گرسائل اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا چاہے تو  گنجائش ہے بشرطیکہ اسے یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ  بیویوں کے درمیان نان و نفقہ، رہائش اور  رات گزارنے میں مکمل برابری اور انصاف سے کام لے گا۔

 

قال الله تعالى:﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا﴾ [النساء: 3]

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل. (سنن أبي داود، باب في القسم بين النساء، ض:2، ص: 208)

وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك. (الفتاوى الهندية، الباب الحادي عشر في القسم، ج:1، ص:341)


فتویٰ نمبر : 7504/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں