بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اکیڈمی کے شاگرد کو انفرادی طور پر نہ پڑھانےپر "كلما "کی طلاق اٹھانا


سوال

زیدایک آنلائن ٹیوشن اکیڈمی میں پڑھا رہا تھا، اس اکیڈمی کے بعض اور اساتذہ نے اکیڈمی کے شاگردوں کے ساتھ روابط کیے، اور خود اپنی طرف سے اپنے گھر میں ان  کو انفرادی طور پر پڑھانا شروع کیا، جس کی وجہ سے اکیڈمی کے سربراہ نے ایک تحریر لکھی ، جس کا مضمون یہ تھا کہ" اگر ہم اکیڈمی سے نکل گئے اور اپنے ساتھ اکیڈمی کے کسی شاگرد کو لے گئے تو ہمارے اوپر کلما طلاق ہوگی"،پھرسارے اساتذہ سے پڑھوا کر اس پر دستخط لی،  اب زیدجو اکیڈمی کا ایک استاد تھا، افغانستان چلا گیا ہے، تو کیا وہاں پر اس اکیڈمی کے کسی طالب علم کو ٹیوشن پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ اور اس سے  اس کی بیوی کو طلاق واقع ہوگی یانہیں؟ اور اگر اکیڈمی کے سربراہ  سے اجازت لے، تو پھر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لفظِ "کلما" کے ساتھ اگر طلاق کو مشروط کی جائے تو ایسی صورت میں جب بھی شرط واقع ہوگی، تو طلاق بھی واقع ہوگی، لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب "کلما" کے ساتھ شرط و جزا دونوں مذکور ہوں، جیسے کوئی اپنی بیوی سے یہ کہے کہ " کلما دخلتِ دار زید، فانت طالق" یعنی جب کبھی تم زید کے گھر میں داخل ہوگی ، تو تم  کو طلاق ہوگی، اور اگر صرف شرط مذکور ہو، یا صرف کلما کی طلاق اٹھانے کے الفاظ ذکر کیے جائیں ، جیسا کہ عام طور پر لوگ استعمال کرتے ہیں، تو اس میں کلما کا اعتبار نہیں ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ تحریر کی  خلاف ورزی پر  کلما والی طلاق کے احکام تو جاری نہیں ہوں گے، یعنی اس خلاف ورزی کے بار بار ارتکاب سے بار بار طلاق واقع نہ ہوگی، البتہ  اگر تحریر پر دستخط کرنے والا دستخط کرتے وقت شادی شدہ تھا،تو معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کی بیوی کو ایک طلاق واقع ہو گی۔تاہم اگر کوئی استاد  اکیڈمی سے نکل جائے، اور نکلتے وقت وہ کسی شاگرد کو ساتھ نہ لے جائے،بلکہ بعد میں اکیڈمی کے کسی سابقہ شاگرد سے رابطہ کرکے اس کو پڑھائے، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الطلاق،باب الصريح، ج:4، ص:485)

ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته.... فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا...لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها. (رد المحتار علی الدرالمختار، كتاب الطلاق، ج:4، ص:485)


فتویٰ نمبر : 7502/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں