بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

متنازعہ زمین کو وقف کرنا


سوال

اگردویا دوسے زیادہ اشخاص کے درمیان کسی زمین یا جائیداد کی ملکیت کا تنازع ہو، پھروہ متنازعہ جائیداد کو کسی مدرسہ یا مسجد کے لیے وقف کر دیں، تو کیا ایسا وقف شرعاًصحیح اورلازم ہوجاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی زمین یاجائیداد کی ملکیت دویا دوسےزیادہ افراد کےدرمیان متنازع ہو،توایسی جائیداد کومسجدیا مدرسہ کےلیےوقف کرنا شرعاً اس وقت تک درست نہیں جب تک وقف کرنے والے کی اس جائیداد پرملکیت ثابت نہ ہو،اس لیے کہ وقف کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وقف کرنےوالااس چیزکا مالک ہو۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی زمین کی ملکیت متنازع ہو،تو فریقین کی طرف سے اس کووقف کرنا درست نہ ہوگا۔

 

(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،ج:2،ص:348)

(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الوقف، ج:6، ص:523)


فتویٰ نمبر : 4174/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں