بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی ادارے كا قرض پر زياده پيسے لينا


سوال

ہم ایک ادارے سے کاروبار کے لیےپانچ لاکھ روپے قرض لیتے ہیں، جو پانچ سال کی قسط پر میں واپس کرناہوتا ہے۔ اس کے اصولوں کے مطابق قسط وار ادائیگی میں   کچھ  زیادہ دینی پڑتی ہے۔ اس طرح پانچ سال میں اقساط کی ادائیگی کے دوران کل تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار روپے اصل رقم سے زیادہ بنتے ہیں۔ تو کیا یہ اضافی رقم لینا  سود  ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیا جائے اتنی ہی مقدار میں  قرض  واپس کرنا لازم ہوتا  ہے، چاہے یک بار واپسی ہو یا قسطوں کے ساتھ۔ نیز اگر قرض کی واپسی میں اضافی رقم کی شرط لگائی جائے تو وہ   سود ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی ادارہ کاروبار کے لیے پانچ لاکھ روپے پانچ سال کی مدت کے لئے  بطورِ قرض دے اور واپسی میں وہ  قرض لینے والےسے   زائد رقم وصول کرنے کی شرط لگائےتو یہ سود ہے لہٰذان سے  سود پر قرض لینا جائز نہیں۔

 

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه۔ (رد المحتار على الدر المختار، 5/ 166)


فتویٰ نمبر : 4176/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں