بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں سونا دینے کی نذر ماننا


سوال

ایک عورت نے نذر مانی ہے کہ میرا جتنا بھی سونا اور زیورات ہیں تو میں اس کو مدرسے میں دوں گی لیکن اب وہ خاتون غریب ہو چکی ہے تو اب یہ خاتون کیا کرے؟ یعنی اگر وہ خاتون زیورات بھیج کر کچھ رقم مدرسہ میں دے اور کچھ اپنے پاس رکھ لے تو صحیح ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اپنے اوپر کسی غیر لازم کام کو لازم کرنے کا نام نذر ہے۔ نذر ماننے کے بعد اس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح اگر کسی نے پورے مال کی نذر مان لی تو اس پر اپنے پورے مال کا صدقہ کرنا لازم ہے تاہم اپنی ضرورت کے لئے اس میں کچھ مال رکھ سکتا ہے جس کو بعد میں صدقہ کرے گا، نیز مدرسہ بعینہ نذر کا مصرف نہیں لیکن اس میں فقیر طلبا نذر کا مصرف ہوتے ہیں اس لئے مدرسے کے لئے مانی ہوئی نذر سے عرف میں مراد اس کے مستحق طلبا پر خرچ کرنا ہوتا ہے اور یہ نذر درست ہوتی ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ عورت نے اپنے پورے زیورات کو مدرسہ میں دینے کی نذر مان لی تو یہ نذر منعقد ہوئی، لہذا اس پر سارے زیورات دینا لازم ہے۔

 

(قال): وإن قال: مالي هدي فعليه أن يهدي ماله كله، قال: بلغنا عن إبراهيم أنه قال في مثل هذا: يتصدق بماله كله ويمسك منه قدر قوته، فإذا أفاد مالا يتصدق بقدر ما أمسك۔(المبسوط للسرخسي،كتاب المناسك،باب النذر،ج:4،ص:134)

وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة ۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة ،ج:2،ص:339)


فتویٰ نمبر : 11049/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں