بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
کام نہ کرنے کے باوجود اوور ٹائم کی اجرت لینا
سوال
ایک شخص سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے۔ ایک دن اس نے ایک گھنٹہ اوور ٹائم کام کیا، لیکن فورمین سے غلطی کی وجہ سے اس ایک گھنٹے کی انٹری اوور ٹائم شیٹ میں درج نہ ہو سکی۔بعد میں اس شخص نے فورمین کو اس کی اطلاع دی کہ میرا ایک گھنٹہ اوور ٹائم رہ گیا ہے، لہٰذا اسے درج کر دیا جائے۔ اس پر فورمین نے کہا کہ جمعہ کے دن پانچ گھنٹے اوور ٹائم ہوتا ہے۔ چونکہ آپ اس دن اوور ٹائم پر حاضر نہیں ہوئے تھے، اس لیے میں ایک گھنٹہ آپ کے اصل بقایا اوور ٹائم کے بدلے میں لکھ دیتا ہوں، جبکہ باقی چار گھنٹے بھی آپ کے نام درج کر دیتا ہوں، حالانکہ آپ نے وہ چار گھنٹے کام نہیں کیے۔اب سوال یہ ہے کہ ان چار گھنٹوں کی جو اضافی اجرت اس شخص کو ملے گی، کیا اس کے لیے اس کا لینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟اور اگر وہ ناجائز ہے، تو اس رقم کو واپس کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ کیونکہ فورمین کے اوپر بھی کئی افسران ہیں، اور تنخواہ کمپنی کے نظام کے ذریعے آتی ہے۔ اگر یہ شخص یہ رقم واپس کرنا چاہے تو غالب گمان یہ ہے کہ وہ اصل مالک (کمپنی) تک نہیں پہنچ سکے گی، بلکہ درمیان کے کسی ذمہ دار کے پاس رہ جائے گی۔ ایسی صورت میں اس اضافی رقم کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے لینا جائز نہیں۔نیز ملازمت میں سچائی اور امانت داری کا مظاہرہ نہایت ضروری ہے۔ لہذا اگر کسی غلط اندراج یا کسی ذمہ دار شخص کی بے ضابطگی کی وجہ سے ملازم کو ایسی اجرت ملنے لگے جس کا وہ حقیقتاً مستحق نہیں تو اس کا لینا اس کے لیے جائز نہیں ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ کے مطابق چونکہ سائل نے صرف ایک گھنٹہ اوور ٹائم کیا تھا، اس لیے وہ صرف اسی ایک گھنٹے کی اجرت کا مستحق ہے۔ فورمین کی جانب سے جمعہ کے دن کے مزید چار گھنٹے، جن میں سائل نے کوئی کام نہیں کیا، اس کے نام درج کر دینا شرعاً جائز نہیں، اور ان چار گھنٹوں کی اضافی اجرت لینا بھی جائز نہیں ۔لہذا سائل پر لازم ہے کہ چار گھنٹوں کی جو اضافی اجرت لی ہے اس کے بدلے چار گھنٹے اضافی کام کرکےاوور ٹائم درج نہ کرےیا حتی الامکان کمپنی تک اضافی رقم پہنچانے کا انتظام کرے، مثلاً کمپنی کے متعلقہ شعبہ، اکاؤنٹس یا کسی ایسے ذمہ دار کے ذریعے جو کمپنی کی طرف سے یہ رقم وصول کرنے کا اختیار رکھتا ہو اس کو واپس کرے یا اگر کوشش کے باوجود کمپنی تک رقم پہنچانے یا اضافی کام کرنے کی کوئی صورت نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس اضافی رقم کو کمپنی کی طرف سے فقراء و مساکین پر صدقہ کر دے، اور خود اس سے کوئی نفع حاصل نہ کرے۔
قال الله تعالى: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا لَا تَأۡكُلُوٓا أَمۡوٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجٰرَةً عَن تَرَاض مِّنكُمۡۚ﴾ [النساء: 29]
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسِهِ.( سنن الدارقطني، كتاب البيوع، ج:3، ص:424)
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.(رد المحتا رعلى الدر المختار، باب البيع الفاسد،ج:5، ص:99)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں