بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فلاحی کاموں میں غیر مسلم كو صدقات كا وكيل بنانا


سوال

مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مسلم ممالک میں اگر کوئی غیر مسلم کوئی  فلاحی کام کر رہا ہو، مثلاً کہیں پانی کا انتظام کر رہا ہو، جیسے فلٹر لگوا دے یا پانی کا بور کروا دے، تو کیا اس میں ہم لوگ چندہ/چیریٹی کر سکتے ہیں یا نہیں کرنی چاہیے؟ مہربانی فرما کر رہنمائی فرما دیں۔ 

 

جواب

واضح رہے کہ جس طرح مسلمان کو زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی کا وکیل بنانا جائز ہے، اسی طرح ذمی غیر مسلم کو بھی وکیل بنانا جائز ہے، البتہ احتیاط اس میں ہے کہ اگر کوئی مسلمان ثقہ وکیل میسر ہو تو اسے ترجیح دی جائے، اور کافر کو وکیل بناتے وقت مال کے مصرف کی مکمل تعیین کر دی جائے تاکہ وہ محض ایک قاصد یا پہنچانے والا بنے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم شخص عوام الناس کے نفع کے لیے کوئی فلاحی کام کر رہا ہو، مثلا پانی کا بور کروانا، تو ایسے عمومی فلاحی اور رفاہی کاموں میں مسلمان غیر مسلم كو چندہ دے سکتے ہیں تاکہ بطورِ وکیل وہ اس کا چندہ اس کار خیر میں لگا دے، بشرطیکہ وہ فلاحی کام کسی غیر شرعی  کام یا اسلام مخالف مقصد کے لیے استعمال نہ ہو رہا ہو۔

 

ولو دفعها إلى الذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر هكذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكواة، ج:1،ص:171)

ولهذا لا تعتبر أهلية النائب حتى لو وكل المسلم ذميا في دفع الزكاة جاز كما في كشف الأسرار شرح أصول فخر الإسلام. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب الحج عن الغير، ج:3، ص:65)


فتویٰ نمبر : 6766/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں