بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسطوں پر موبائل خرید کر کسی تیسرے پرنقداً فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص قسطوں پر موبائیل خریدے اور پیسے حاصل کرنے کے لئے کسی تیسرے کو نقداً کم قیمت پر فروخت کر دے، تو کیا یہ حیلہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نقد رقم حاصل کرنے کے لئے کسی سے کوئی چیز ادھارخرید کر پھر اسے نقد کم قیمت میں کسی اور شخص کے ہاتھ  فروخت کرنا سود سے بچنے کا ایک حیلہ ہے جس کوضرورت کے وقت اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اس میں ضروری ہے کہ ادھار پر خریدی گئی چیز پر قبضہ کرکے آگے بیچا جائے۔ نیز اسی فروخت کنندہ کو نقد واپس نہ بیچا جائے، بلکہ کسی تیسرے شخص کو بیچا جائے، اور وہ چیز کسی شرط، یا عرف کے تحت بائع اول کو واپس نہ لوٹے۔ نیز خرید و فروخت کے معاہدے اس طرح مربوط نہ ہوں جس سے خریدار کو حقیقی قبضہ اورتصرف کا حق ثابت نہ ہو۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص قسطوں پر موبائیل خریدے اور کسی تیسرے کو نقد فروخت کردے تو ضرورت کے وقت اس طرح کرنا جائز ہے۔ لیکن اس کو مستقل عادت بنانا ٹھیک نہیں۔

 

 وإلا ‌فلا ‌كراهة ‌إلا ‌خلاف ‌الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا. (فتح القدير شرح الهداية، كتاب الكفالة،ج:7، ص:213)

ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الكفالة،مطلب في بيع العينة،ج:7،ص:613)

(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:7،ص:267)


فتویٰ نمبر : 4181/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں