بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفرشرعی کی مقدار سےکم ہونے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

ہم فوجی ایک ایسےعلاقے میں تعینات ہیں جو ہمارےعلاقے سے 48 میل سے کم فاصلے پر ہے، اور یہاں دشمن سے لڑنےکےلیے آتے ہیں۔ بعض فوجی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ بعض دشمن کے خوف کی وجہ سے اپنےگھر نہیں جاسکتے،البتہ کسی بھائی یارشتہ دارکےہاں جاسکتے ہیں۔ایسی صورت میں ان فوجیوں کے لیے نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ مسافر شمار ہوں گےاورقصر نماز پڑھیں گے، یا مقیم شمار ہوں گے اور پوری نماز ادا کریں گے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص سفر کی نیت کرکےگھرسےنکلتا ہے،اوروہ جگہ (78)کلومیٹریااس سےزیادہ دور ہو،توجب تک وہ اپنےوطن کو واپس نہ لوٹےیا کسی علاقےمیں پندرہ دن تک ٹھہرنےکی نیت نہ کرے،وہ مسافررہےگااورقصرنمازپڑھےگا،تاہم جہاں پر سفرشرعی کی مقدارپوری نہ ہوتووہاں ہر صورت میں پوری نمازاداکرےگا۔

صورتِ مسئولہ میں جب کسی فوجی کی تعیناتی اس کے علاقےسے 48 میل سے کم فاصلے پرہو،تووہ شرعاً مسافر نہیں بلکہ مقیم شمارہوگا۔ لہٰذااس پرنمازپوری ادا کرنا لازم ہے، قصر کرنا جائز نہیں۔محض کسی جگہ محصورہونےکی وجہ سےاحکامِ سفرواقامت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مدارمسافت اور نیتِ اقامت کرنےیانہ کرنےپر ہے۔

 

السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام.(الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر، ج:1،ص:80)


فتویٰ نمبر : 11045/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں