بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پكى ہوئی فصل بیچنے کی صورت میں عشر کا حکم


سوال

اگر کھڑی (پکی) فصل فروخت کر دی جائے، تو اس کی پیداوار کا عشر بائع (فروخت کرنے والے) پر واجب ہوگا یا مشتری (خریدار) پر؟نیز عشرکس اعتبار سے ہوگا جو رقم ملی ہے اس کا عشر نکالیں گے یا زمین کی جتنی آمدنی مشتری کےپاس آئے اس کا اعتبار ہوگا؟

جواب

اگر فصل پكنے سے پہلے فروخت کی جائے تو خریدنے والے پر عشر کی ادائیگی لازم ہوگی ،لیکن اگر فصل پکنے کے بعد فروخت کی جائے تو پھر بائع (فروخت کرنے والا) پر عشر  لازم ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر بائع  پکی ہوئی فصل فروخت کرے تو اس صورت میں عشر بائع  پر لازم ہوگا اوربائع کو جتنی رقم فصل کے فروخت  کرنے سے حاصل ہوجائے اس میں سے عشر ادا کرے گا۔

 

ولو باع الزرع إن  قبل إدراكه، فالعشر على المشتري، ولو بعده فعلى البائع .(رد المحتار علی الدر المختار ، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:2، ص:333)

ولو باع العنب، أخذ العشر من ثمنه، وكذلك لو إتخذه عصيرا، ثم باعه، فعليه عشر ثمن العصير۔ ۔ ۔ ولا يأكل شيئا من طعام العشر، حتى يودي عشره.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، باب زكوة الزروع والثمار، ج:1، ص:187)

 


فتویٰ نمبر : 11044/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں