بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گندم کاٹنے کی اجرت میں گندم مقرر کرنا


سوال

اگر مزدور گندم کی فصل کی کٹائی کی مزدوری نقد رقم کے بجائے گندم کی صورت میں وصول کرتے ہوں، تو کیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ جس کھیت میں کٹائی کریں،اسی کھیت کا گندم بطورِ مزدوری حاصل کریں؟

جواب

واضح رہے کہ جس چیز کا حصول خود اجیر کے کام پر موقوف ہو، اسے اسی کام کی اجرت مقرر کرنا جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں گندم کی کٹائی کے بدلے اسی کھیت کی گندم میں سے بطورِ اجرت کچھ حصہ مقرر کرنا جائز نہیں۔ البتہ فقہائے کرام نے اس کے جواز کی ایک صورت بیان کی ہے، وہ یہ کہ کٹائی کی اجرت کے طور پر گندم کی ایک متعین مقدار طے کر دی جائے،لیکن یہ تخصیص نہ ہو کہ اسی  کاٹے ہوئے گندم میں سے دیا جائے گا۔پھر مستاجر چاہے تو  اسی  گندم میں سے اجرت دے دےیا کسی اور گندم سے۔

 

وكذا إذا استأجر حمارا يحمل طعاما بقفيز منه فالإجارة فاسدة لأنه جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله فيصير في معنى قفيز الطحان.(الهدايه، كتاب الاجارات، ج:3، ص:308)

صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط. (الفتاوی الهندية، كتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه، ج:4، ص:444)


فتویٰ نمبر : 4167/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں