بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بارانی اور نہری پانی سے سیراب شدہ زمین میں عشر


سوال

ہمارے علاقے میں کھیتوں کی آب پاشی نہر کے پانی سے کی جاتی ہے، اور نہری پانی پر کوئی ٹیکس یا فیس بھی عائد نہیں ہے۔ البتہ فصل کی کاشت میں صرف کھاد، ٹریکٹر اور دیگر معمول کے زرعی اخراجات آتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس فصل پر عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟اسی طرح بارانی زمین، جس کی آب پاشی صرف بارش کے پانی سے ہوتی ہو اور اس میں بھی صرف ٹریکٹر، کھاد اور دیگر زرعی اخراجات برداشت کیے جاتے ہوں، اس کی پیداوار پر عشر کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟

جواب

واضح رہے کہ عشر اور نصفِ عشر کا حکم زمین کی آب پاشی کے طریقے پر موقوف ہے، یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ فصل کو سیراب کرنے کے لیے کتنی محنت یا خرچ کرنا پڑتا ہے۔اگر زمین بارش، قدرتی چشموں یا ایسے نہری پانی سے سیراب ہوتی ہو جس کے حصول میں نہ کوئی خاص محنت ہو اور نہ کوئی مالی خرچ، تو اس کی پیداوار پر پورا عشر (دسواں حصہ) واجب ہوگا۔البتہ اگر آب پاشی کے لیے پانی محنت یا خرچ سے حاصل کیا جاتا ہو، مثلاً کنویں سے ڈول کے ذریعے پانی نکالا جائے، رہٹ یا ٹیوب ویل استعمال کیا جائے، یا نہر کا پانی دور ہونے کی وجہ سے اسے کھیت تک پہنچانے کے لیے نالہ وغیرہ بنانا پڑے، یا نہری پانی پر حکومت کی طرف سے محصول (ٹیکس) ادا کرنا پڑتا ہو، تو ایسی زمین کی پیداوار پر نصفِ عشر (بیسواں حصہ) واجب ہوگا۔

صورتِ مسئولہ  کے مطابق  اگر نہری پانی پر حکومت کی طرف سے کوئی محصول نہ ہو، تو یہ دیکھا جائے گا کہ پانی کو کھیت تک پہنچانے میں محنت یا مالی خرچ آتا ہے یا نہیں۔ اگر نالہ وغیرہ بنانے یا پانی پہنچانے میں مشقت یا خرچ ہو، تو پیداوار پر نصفِ عشر واجب ہوگا۔ لیکن اگر نہر کھیت کے قریب ہو اور پانی بغیر کسی اضافی محنت یا خرچ کے کھیت تک پہنچ جاتا ہو، تو اس صورت میں پورا عشر واجب ہوگا۔اسی طرح جو زمین صرف بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو، اس کی پیداوار پر بھی پورا عشر واجب ہے۔

 

(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر۔۔۔ (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة .(الدر المختار مع تنوير الأبصار، كتاب الزكوة ، باب العشر،ج: 3، ص: 265)

ثم ماء العشر ماء البئر حفرت في أرض العشر، وماء العين التي تظهر في أرض العشر، وكذلك ماء السماء، وماء البحار العظام عشري.(الفتاوى الهندية، کتاب الزکوۃ ، الباب السادس في زكوة الزروع والثمار، ج:1 ،ص: 268)


فتویٰ نمبر : 11043/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں