بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ثبوت حرمت مصاہرت کےلئےرغبت جماع كا اعتبار


سوال

ایک شخص نے اپنی ساس کوشہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا ہے چارسے پانچ بار، اس وقت جب وہ سو رہی تھی۔ مذکورہ شخص اورساس کا اس بارے میں حلفیہ بیان یہ ہے۔ لڑکے کا بیان: ہاتھ لگانے سےانتشارہوا تھااوردرمیان میں کوئی کپڑاحائل بھی نہیں تھا، لیکن ہاتھ لگاتے وقت جماع کی رغبت وارادہ نہیں تھا محض ہاتھ سے لذت حاصل کرنا مقصد تھا ،نیزایک دو بارانزال بھی ہوا۔ ساس کا بیان: مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کس نیت سے ہاتھ لگایا ہے میں اس وقت نیند میں تھی، لیکن بعض وقت ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی ہاتھ لگا رہا ہے۔ کیا اس صورت میں نکاح باقی ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسےحرمت مصاھرت کے ثبوت کے لئےدوشرطوں کاموجودہونا ضروری ہے، 1: لمس یا نظر کے وقت  شہوت معتبرہ کاوجود (شہوت معتبرہ سے مراد یہ ہے کہ چھونے کے وقت عضؤ مخصوص میں انتشار پیداہوجائےیااگر پہلے سے منتشرہوتواس میں زیادت اورشدت آجائے)،2:دوسرا یہ کہ ملموسہ (جس کو شہوت کےساتھ چھواہے)اورمنظورہ(جس کوشہوت کے ساتھ دیکھاہے) کی طرف میلان اورمجامعت کی خواہش ہو۔اگران دونوں میں کوئی ایک شرط بھی فوت ہوجائےتو حرمت مصاھرت ثابت نہ ہوگی، مثلا:اگرملموسہ یا منظورہ کی طرف مجامعت کا خیال نہیں ہواخواہ کسی دوسری کی طرف خیال ہواہویا نہ ہواہو،دونوں صورتوں میں حرمت مصاھرت ثابت نہ ہوگی اوراگردونوں شرائط موجود ہوں لیکن اسی حالت میں چھونے والےکا انزال ہواتوپھربھی حرمت مصاھرت ثابت نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب اس شخص نے اپنی ساس کوشہوت کے ساتھ چھواہے لیکن اس کے حلفیہ بیان کےمطابق ہاتھ لگاتے وقت اسےجماع کی رغبت وارادہ نہیں تھا محض ہاتھ سے لذت حاصل کرنا مقصد تھا، توحرمت مصاھرت ثابت نہیں ہوئی اور اس کانکاح بدستوربرقرارہے۔

 

وكثير من المشايخ لم يشترطوا الانتشار، وجعلوا حد الشهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها.(المحيط البرهاني،3/ 63)

قال عامة العلماء ‌الشهوة ‌أن ‌يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها، كذا في قاضي خان.( درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب النكاح، ج:1، ص:330)

وحد ‌الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. وبه يفتى، كذا في الخلاصة.( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ج:1، ص:275)

‌ويشترط ‌وقوع ‌الشهوة ‌عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا.....، وفي الجوهرة. لا يشترط في النظر للفرج تحريك آلته. به يفتى هذا إذا لم ينزل، فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة، به بفتى.قال ابن عابدين تحت (قوله: فلا حرمة) لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء هداية. قال في العناية: ومعنى قولهم إنه لا يوجب الحرمة بالإنزال أن الحرمة عند ابتداء المس بشهوة كان حكمها موقوفا إلى أن يتبين بالإنزال، فإن أنزل لم تثبت، وإلا ثبت لا أنها تثبت بالمس ثم بالإنزال تسقط؛ لأن حرمة المصاهرة إذا ثبتت لا تسقط أبدا.(ردالمحتار مع الدر المختار،کتاب النکاح، ج:3، ص:33،34)

أقول: ذكر الشارح في فصل المحرمات من النكاح أن حد الشهوة في المس والنظر الموجبة لحرمة المصاهرة تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ تحرك قلبه أو زيادته اهـ ونقله القهستاني عن أصحابنا ثم قال: ‌وقال ‌عامة ‌العلماء: أن يميل بالقلب ويشتهي أن يعانقها وقيل أن يقصد مواقعتها.(ردالمحتار مع الدر المختار،کتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:365)


فتویٰ نمبر : 7501/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں