بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

دستاربندی سےباقی شدہ رقم مہتمم کا ذاتی خرچ میں استعمال کرنا


سوال

آج کل بعض مدارس  کے مہتممین سال کے آخر میں طلباء اور طالبات سے دستاربندی کے لیے کچھ رقم جمع کرتے ہیں اور دستاربندی کے بعد کچھ رقم رہ جاتی ہے۔ کیا بچت شدہ رقم مہتممین کے لیے  ذاتی خرچ میں استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ دستاربندی کے لیے طلباء و طالبات سےجو رقم  جمع کی جاتی ہے ،مہتمم اس رقم میں امین اور وکیل ہوتا ہے اوروکیل  جس مقصد کے لیے رقم جمع کرتا ہےتو اسی مصرف میں اس کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق طلباء اور طالبات سے دستاربندی کے لیے جو  رقم جمع کی جائے تو اس میں جو رقم اضافی بچ جائے اس کو ذاتی خرچ میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔

 

ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه.(البحرالرائق،كتاب الزكوٰۃ،شرائط اداء الزکوٰۃ،ج:2،ص:227)


فتویٰ نمبر : 6762/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں