بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مذاق میں اپنے آپ کو “ہندو” کہنا


سوال

زید کی شادی کو 4 سال ہو گئے ہیں اور اس کی ایک بیٹی بھی ہے۔ لیکن زید نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص مذاق میں اپنے آپ کو کافر کہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد زید کو یاد آیا کہ اس نے تقریباً 6 سال پہلے مذاق میں اپنے آپ کو "ہندو" کہا تھا، حالانکہ وہ اس وقت بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتا تھا، اسلام پر مکمل ایمان رکھتا تھا اور پوری طرح اسلام پر عمل کر رہا تھا۔ اب جب اسے معلوم ہوا کہ شاید یہ بات کفریہ تھی اور ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے وہ اس وقت اسلام سے خارج ہو گیا ہو، تو اب اسے کیا کرنا چاہیے؟ اور اتنا عرصہ جو وہ اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزار رہا تھا کسی طرح حرام تو نہیں ہوا؟ کیا اس کا نکاح درست ہے؟ کیا اس کی بیٹی جائز ہے؟ اور موجودہ صورتِ حال میں اسے شریعت کے مطابق کیا کرنا چاہیے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کلمہ کفر کہتے وقت یا کافر مذہب کی طرف اپنی نسبت کرتے وقت اگر کفر کا عقیدہ بھی ہو، تو ایسی صورت میں وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کفر کا عقیدہ نہ ہو بلکہ مذاق میں اسلام کےعلاوہ کسی مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے اور دل سے اس کا ارادہ نہ ہو، تو اگرچہ یہ بڑی جرأت اور عظیم گناہ ہے، تاہم عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ شخص نے مذاق میں اپنے آپ کو ہندو کہا لیکن اس کا عقیدہ کفر کا نہ تھا، تو ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جاسکتا نہ اس کا نکاح متاثر ہواہے۔ تاہم اس طرح کے الفاظ زبان پر لانا انتہائی خطرناک اور گناہِ کبیرہ ہے، اس لیے اس عمل پر سچے دل سے توبہ و استغفار لازم ہے اور آئندہ کے لیے ایسے الفاظ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

 

ومن أتی بلفظة الكفر مع علمه أنها لفظة الكفرعن اعتقاده فقد كفر،ولولم يعتقد أولم يعلم أنهالفظة الكفر، ولكن أتی بها علی اختيار فقد كفر عند عامة العلماء لا يعذر بالجهل، وفی الخانية:وقال بعضهم :الجاهل إذا تكلم بكفر ولم يدر أنه كفر لا يكون كفراً ويعذر بالجهل، وفی الينابيع:قال أبوحنيفة ؓ:لا يكون الكفرکفراًحتی يعقد عليه القلب.(الفتاوی التتارخانية، كتاب أحكام المرتدين، الفصل إجراء كلمة الكفر،ج:7، ص:282)


فتویٰ نمبر : 6771/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں