بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نذر پوری کرنے سے عاجز ہونا


سوال

ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر میرے ہاں بچے پیدا ہو جائیں تو میں ہر سال محرم الحرام میں پانچ روزے رکھوں گی۔ پھر اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی۔ گزشتہ 30، 35 سال سے وہ ہر سال محرم الحرام میں پانچ روزے رکھتی آرہی ہے، لیکن اب اس کی بیماریاں، مثلاً شوگر وغیرہ، بڑھ گئی ہیں، جس کی وجہ سے اس کے لیے روزے رکھنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ رمضان المبارک کے روزے بھی وہ بمشکل رکھ پاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں وہ نذر کے روزوں کے بجائے ان کا فدیہ ادا کر سکتی ہے، یا اس پر روزے رکھنا ہی لازم ہوگا؟

 

جواب

واضح رہے کہ اپنے اوپر کسی غیر لازم کام کو لازم کرنے کا نام نذر ہے۔ نذر ماننے کے بعد اس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے  ۔تاہم اگر کوئی  شخص   کسی کام کے  کرنے پر  روزے رکھنے کی  نذر معلق کرے اور اس کام کے ہونے کے بعد اس کو پورا  کرنے سے عاجز ہو جائے تو ایسی صورت میں  ہر روزہ کے بدلے فدیہ لازم ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں عورت کایہ کہنا نذر ہے کہ '' اگر میرے بچے پیدا ہو جائے تو میں ہر سال محرم الحرام میں 5 روزے رکھوں گی''لہذا اگر اس عورت کی بچی واقعی پیدا ہوئی ہو تو نذر پوری کرنے کے لیے اس پر ہر سال محرم الحرام کے پانچ  روزے رکھنا لازم ہوں گے، اب اگر واقعی شوگر یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے اس کے لیے نذر کے روزے رکھنا سخت مضر یا ناقابلِ برداشت ہو، اور دیندار ماہر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق آئندہ بھی روزہ رکھنے کی امید نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ ہر فوت شدہ نذری روزے کے بدلے ایک صدقۂ فطر کے برابر فدیہ ادا کرے گی،البتہ اگر بیماری عارضی ہو اور بعد میں روزے رکھنے کی طاقت حاصل ہونے کی امید ہو، تو فدیہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ صحت یاب ہونے کے بعد ان نذری روزوں کی قضا کرنا لازم ہوگی۔

 

إذا قال إن فعلت كذا فعلي حجة أو صوم سنة أو صدقة ما أملكه أجزأه من ذلك كفارة يمين بخلاف ما إذا كان شرطا يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي لانعدام معنى اليمين فيه وهو المنع وهذا التفصيل هو الصحيح.(الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الأيمان، ج:2، ص:321)

ولو أخر القضاء حتى صار شيخا فانيا أو كان النذر بصيام الأبد فعجز لذلك أو باشتغاله بالمعيشة لكون صناعته شاقة فله أن يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا على ما تقدم، وإن لم يقدر على ذلك لعسرته يستغفر الله إنه هو الغفور الرحيم.( الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، ج:1، ص:209)


فتویٰ نمبر : 6772/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں