بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وارث کا اپنے حصے کے عوض کچھ لے کر دستبردار ہونا


سوال

اگر کوئی وارث میراث سے خود کو دستبردار کر دے تو کیا وہ میراث سے محروم ہوگا یا نہیں؟ ہماری چار بہنیں ہیں، وہ سب کہتی ہیں کہ ہم اپنے والد کی میراث میں حصہ نہیں لیتیں، ہم نے ان کو اپنی طرف سے دو دو لاکھ روپے دے دیے، کیا بعد میں ان کی اولاد ہم سے اپنی ماں کے حق کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص ترکہ میں سے کوئی چیز لے کر باقی ترکہ سے دستبردار ہو جائے، تو شرعاً یہ دستبرداری معتبر ہوتی ہے، اور باقی ترکہ میں سے اس کا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر سوال میں ذکر کردہ بیان واقعۃکے مطابق اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اورسائل کی بہنوں نے برضا و خوشی  دو لاکھ روپے لے کر ترکہ کی زمین سے دستبرداری کا اظہار کیا ہو، جس کا کوئی ثبوت موجود ہو، تو بعد میں ان کی اولاد کوئی مطالبہ نہیں کر سکتی ہے۔

 

ولو أخرجت الورثة أحدهم عن عرض أو عقار بمال أو عن ذهب بفضة أو على العكس صح قل أو كثر) حملا على المبادلة لا إبراء إذ هو عن الأعيان باطل كذا أطلق الشارحون هنا. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلح، باب الصلح في الدين، ج:7، ص:260)

أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلح، فصل في التخارج، ج:5، ص:642)


فتویٰ نمبر : 3851/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں