بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سفر کے حدود میں شہر کے حدود کا معتبر ہونا


سوال

میں جامعہ عثمانیہ پشاور میں طالب علم ہو، میرا تعلق ضلع کرم سے ہے، جو ہمارے مدرسہ جامعہ عثمانیہ پشاورسے تقریباً 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تعطیلات میں گھر جاتے وقت سفر کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور واپس آتے وقت سفر کہاں پر ختم ہوتا ہے؟ یعنی سفر شروع ہونے کے لیے ضلع پشاور سے نکلنا ضروری ہے یا کوئی خاص حدود ہیں؟ مثلاً :کوہاٹ اڈہ میں قصر پڑھی جائے گی یا پوری نماز؟

جواب

جب کوئی شخص اپنے وطنِ اقامت سے وطنِ اصلی کے لیے روانہ ہو اور ان دونوں جگہوں کے درمیان فاصلہ ۷۸ کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہو، تو وہ وطن اقامت کے حدود سے باہر نکلتے ہی شرعاً مسافر شمار ہوگا اور اس پر سفر کے احکام لاگو ہوں گے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر سائل جامعہ عثمانیہ پشاور میں طالب علم ہو اور اس کے علاقے (ضلع کرم) سے پشاور تک کا فاصلہ 160 کلومیٹر بنتا ہو، تو اس صورت میں جب وہ جامعہ عثمانیہ (پشاور) سے اپنے گھر ضلع کرم کے لیے روانہ ہو، تو سفر کا آغاز پشاور شہر کی آبادی سے نکل کر شروع ہوگاضلع پشاور کے حدود سے نہیں۔ اور شہر کے  حدود کو قطعی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  یہ بدلتے رہتے ہیں۔ البتہ کوہاٹ اڈہ پشاورشہر کی حدود کے اندر آتا ہے، اس لیے سائل  کوہاٹ اڈہ میں مقیم شمار ہو کر پوری نماز پڑھے گا۔

 

(من خرج من عمارة موضع إقامته)... (قاصدًا)...(مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة، ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل بل إلى الزوال، ولا اعتبار بالفراسخ على المذهب (بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة) حتى لو أسرع فوصل في يومين قصر، ولو لموضع طريقان أحدهما مدة السفر والآخر أقل قصر في الاول لا الثاني. (صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس:إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعًا والمسافر ركعتين. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:121)

وأما بيان ما يصير به المقيم مسافراقال أصحابنا:مسير ثلاثة أيام سير الإبل ومشي الأقدام وهو المذكور في ظاهر الروايات. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل بيان ما يصير به المقيم مسافرا، ج:1، ص:93)

السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام"لقوله عليه الصلاة والسلام"يمسح المقيم كمال يوم وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها. (لهداية، باب صلاة المسافر، كتاب الصلاة، ج:1، ص:80)


فتویٰ نمبر : 11041/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں