بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تین طلاقوں کے بعد حضانت، نفقہ، عدت اور مہر کےاحکام
سوال
میں اپنی بیوی کو الگ الگ مرتبہ دو طلاقیں دے چکا تھا اور پھر اس کی طرف رجوع کر لیتا۔ اب اس دفعہ فون پر میں نے اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق طلاق کے الفاظ کہے۔ اب ہمارے درمیان شرعی فیصلہ کیا ہوگا؟1-میراایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ان کی پرورش کا حق کس کا ہوگا؟ 2-میری بیوی حاملہ بھی ہے دورانِ عدت کیا یہ خرچ مجھ پر ہوگا؟ اسی طرح کیا وضع حمل کا خرچ بھی مجھ پر ہوگا؟3- مہر کے حوالے سے بھی بتائیں۔
جواب
واضح رہےکہ طلاق کے صریحی الفاظ کہنےسےبغیرنیت کےطلاق واقع ہوجاتی ہے،اگرطلاق کےالفاظ متعددہوں توطلاق بھی متعدد واقع ہوگی ۔لہذا اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ یا اس سےزیادہ طلاقیں دیں تو اس کی بیوی تین طلاقوں کےساتھ مطلقہ مغلظہ ہوگی ۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر شوہر پہلے دو مرتبہ اپنی بیوی کو الگ الگ طلاق دے کرعدت کے اندر رجوع کر چکا تھا، پھر اس نے تیسری مرتبہ فون پر اپنی بیوی کو "طلاق، طلاق، طلاق" کہا، تو پہلے واقع ہونے والی دو طلاقوں کے بعد اب تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی،اور مجموعی طور پر تین طلاقیں مکمل ہوگئیں، اور عورت اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو کر اس سے جدا ہو گئی۔
1-میاں بیوی کےدرمیان جدائی کے بعد لڑکا جب تک سات سال اورلڑکی نو سال کی عمر تک نہ پہنچ جائے تب تک ان کی پرورش کا حق ماں کوہو گا، بشرطیکہ کہ وہ کسی ایسے فسق وفجورمیں مبتلا نہ ہو جس سے بچوں کی تربیت متاثر ہونےکا خدشہ ہویاوہ بچوں کے ذی رحم محرم کےعلاوہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔اورجب لڑکےکی عمر سات سال اورلڑکی کی عمرنو سال ہو جائےتوان کی پرورش وتربیت کی ذمہ داری کا حق باپ کوہو گا۔
2-چونکہ عورت حاملہ ہے، اس لیے اس کی عدت وضعِ حمل پر مکمل ہوگی، اورعدت کے اختتام تک اس کا نفقہ شوہر کےذمہ واجب ہے۔نیزراجح قول كےمطابق وضع حمل کا خرچہ بھی شوہر پر ہوگا۔
3-صورتِ مسئولہ میں بیوی اپنے پورے مہر کی مستحق ہے، لہٰذا شوہر نےاگرمہرنہ دیاہوتواس پر مکمل مہر کی ادائیگی لازم ہے۔
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا….. وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني في ايقاع الطلاق،ج:1،ص:423)
المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشر:في النقات،الفصل الثالث في نفقة المعتدة،ج:1،ص:605)
وإذا وقعت الفرقة بين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وحجري له حواء، وثديي له سقاء، وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي "، ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون. " والنفقة على الأب " على ما نذكر " ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات". (الهداية في شرح بداية المبتدي،باب حضانة الولد ومن أحق به،ج:3، ص:310)
وإذا خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر. (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب النكاح،باب المهر،ج:3،ص:58)
(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا. وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. ( رد المحتار على الدر المختار، باب الخضانة،ج:5، ص:267)
وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار،قيل عليه وقيل عليها…..(قوله قيل عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،باب النفقة،ج:5،ص:291/292)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں