بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

انوسٹرکا ٹریول ایجنٹ کی جگہ رقم جمع کرکے نفع میں شریک ہونا


سوال

ایک شخص کی عمرہ ٹریول ایجنسی ہے وہ اب دوسری کمپنی (جس کے پاس حج پیکج کا اجازت نامہ ہے یعنی وہ پرائیوٹ کمپنی سرکاری اجازت سے لوگوں کو حج پربھیجتی ہے اس) سے کچھ سیٹیں لیتا ہے کہ مثلا بیس حجاج کو میں جمع کرتا ہوں اورآپ کی کمپنی سے ان کو حج پربھیجوں گا، اوران حجاج کی جو ایڈوانس بکنگ ہے وہ میں جمع کرواؤں گا، چونکہ اس شخص کے پاس فی الحال خود اتنی بڑی رقم نہیں ہے جو وہ حج اسکیم میں بطور بکنگ جمع کرواسکے اس لیے وہ ایک انویسٹر سے کہتا ہے کہ یہ رقم تم جمع کروا دو جب حجاج جائیں گے اوراس میں نفع ملے گا میں تمہیں دس فیصد نفع دوں گا۔ کیا یہ طریقہ شرعا جائز ہے؟اگر نہیں تو اس کی جائز متبادل صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ قرض دےكر کسی قسم کی مشروط نفع حاصل کرناسود اورحرام ہے چاہے وہ نفع پیسوں کی صورت میں ہویا منافع کی صورت میں ہو۔ صورت مسئولہ کے مطابق انوسٹركا ٹریول ایجنٹ کی جگہ پررقم جمع کرناقرض ہے لہٰذا حاصل ہونے والےنفع میں 10 فیصد کامطالبہ کرنا سوداورحرام ہے۔

 

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل فى الشروط، ج:10، ص:697)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.(ردا لمحتار مع الدر المختار،كتاب البيوع، فصل فى القرض، ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 4163/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں