بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مصحف کے ہوتے ہوئے موبائل میں تلاوت کرنا


سوال

مسجد میں قرآن مجید کے نسخے موجود ہونے کے باوجود مسجد میں بیٹھ کر اپنے سمارٹ فون میں تلاوت کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا عبادت ہے، خواہ مصحف  کو دیکھ کر کی جائے، یا سمارٹ فون کی سکرین سے تلاوت کی جائے۔ مصحف سے تلاوت کرنے میں مصحف کو دیکھنا بھی باعثِ ثواب ہے۔ اس لیے مسجد میں جب قرآن مجید کے نسخے موجود ہوں، تو بہتر یہی ہے کہ مصحف ہی سے تلاوت کی جائے تاکہ مصحف کو دیکھنے کی فضیلت اور ثواب بھی حاصل ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص موبائل میں تلاوت کرنے میں سہولت محسوس کرتے ہوئے موبائل سے تلاوت کرتا ہے، تو یہ بھی جائز ہے اور اس کی تلاوت بھی درست ہے۔

 

عن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: '' قراءة الرجل في غير المصحف ألف درجة، وقراءته في المصحف تضاعف على ذلك ألفي درجة ''. رواه الطبراني، وفيه أبو سعيد بن عون، وثقه ابن معين في رواية، وضعفه في أخرى، وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 7/ 165)

عن عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفي، عن جده قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قراءة القرآن في غير المصحف الف درجةٍ، وقراءته في المصحف تضَعَّف على ذلك ألفي درجة ".( شعب الإيمان ،3/ 507  )

ولأن القراءة عبادة انضافت إلى عبادة أخرى وهو النظر إلى المصحف ولهذا كانت القراءة من المصحف أفضل من القراءة غائبا. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،  1/ 158)

 وقراءةُ القرآن عن المصحف أولى من القراءة عن ظهرِ قلبٍ؛ لأنّ فيه جمعاً بين العبادتين، وهو النّظر في المصحف، وقراءة القرآن .(خزانة المفتين - قسم العبادات ص: 695 )

  قراءۃ القرآن فی المصحف اولی۔(الفتاوی الھندیۃ،ج: 5،  ص: 317)


فتویٰ نمبر : 6761/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں