بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کی اشیاء کو ذاتی طور پر استعمال کرنا


سوال

میں ایک مدرسے میں حفظ القرآن کا مدرس ہوں۔ اس مدرسے میں مقیم طلباء بھی ہیں اور میری کلاس میں بھی آدھے مقیم طلباء ہیں۔ میں صبح کی اذان سے لے کر اشراق تک، پھر ظہر سے مغرب تک مدرسے میں کلاس لیتا ہوں، اور تین راتیں مدرسے میں گزار کر طلباء کی ڈیوٹی کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ مدرسے کی بجلی وغیرہ کے انتظامات کی بھی خدمت انجام دیتا ہوں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں مدرسے کی بجلی (موبائل، لیپ ٹاپ اور پنکھے وغیرہ چلانے کے لیے) استعمال کر سکتا ہوں، یا مہتمم سے اجازت لینا ضروری ہے؟ میں ڈیوٹی کے بغیر بھی اور چھٹی کے دنوں میں بھی اکثر مدرسے میں ہی رہتا ہوں، کیا اس دوران مدرسے کا کھانا یا جو کھانا طلباء کے لیے آتا ہے، وہ استعمال کر سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ مدرسے کا پیسہ یا اس کی اشیاء مہتمم کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہیں، جسے وہ صرف مدرسے کی ضروریات اور اس کے مصالح میں استعمال کرنے کا پابند ہوتا ہے۔  

صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر کسی مدرس کے لیے مدرسے کی بجلی (موبائل، لیپ ٹاپ، پنکھے وغیرہ کے استعمال) کے حوالے سے مہتمم یا شوریٰ نے صراحتاً یا عرفاً اجازت دی ہو، یا اساتذہ کے لیے یہ سہولیات بطورِ مراعات مقرر ہوں، تو پھر اس کا استعمال جائز ہوگا۔ البتہ اگر صراحتاً یا عرفاً اجازت نہ دی گئی ہو، تو پھر مہتمم سے اجازت لینا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر، کسی مدرس کے لیے ان چیزوں کا ذاتی طور پر  استعمال کرنا درست نہیں۔  کھانا کھانے کا بھی یہی حکم ہے۔

 

متولى المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد.(الفتاوی الھندیة،کتاب الوقف،ج:2ص:462)

 شرط الواقف كنص الشارع: أي في المفهوم والدلالة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص: 379)

 على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة، وصرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصا۔  (رد المحتار على الدر المختار ، 4/ 445)


فتویٰ نمبر : 6783/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں