بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسے كی رقم سے کسی مہمان یا تنظیم والوں کی ضیافت کرنا


سوال

جب کوئی مہمان مدرسہ میں آ جائے،یا مدرسہ کسی ایک تنظیم سے منسلک ہو اور مدرسہ میں کبھی کبھار اس تنظیم کا اجلاس ہو، جو مدرسے کے مفاد میں نہ ہو۔تو ان دونوں صورتوں میں مہمان کو کھانا کھلانا، یا اجلاس کے شرکاء کے لیے دعوت کا انتظام کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت  نے مالی اور انتظامی معاملات میں امانت داری اور مصالحِ شرعیہ کی رعایت کو نہایت اہمیت دی ہے۔ مدارس کے اخراجات عموماً عطیات، صدقات اور  زکوٰۃ سے پورے کیے جاتے ہیں، اس لیے ان اموال کو صرف انہی مقاصد میں خرچ کرنا ضروری ہے جو براہ راست مدرسہ کے مفاد  میں ہو۔ چنانچہ اگر مدرسے میں کوئی مہمان آئے، یا مدرسہ کسی تنظیم سے وابستہ ہو اور اس تنظیم کا اجلاس مدرسے میں منعقد ہو، اور اس مہمان یا اس تنظیم سے مدرسے کو کسی نوعیت کا علمی  یا انتظامی فائدہ حاصل ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں مدرسے کے فنڈ سے مہمان کی ضیافت یا اجلاس کے شرکاء کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کی گنجائش ہے۔البتہ اگر وہ مہمان یا اجلاس براہِ راست یا بالواسطہ مدرسے کے مفاد سے متعلق نہ ہو، تو ایسی صورت میں مدرسے کے فنڈ سے مہمانوں کی ضیافت یا اجلاس کے شرکاء کے لیے کھانے کا انتظام کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

 

وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق.(الفتاوی الهندية، كتاب الوديعة، ج:4، ص:338)


فتویٰ نمبر : 6765/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں