بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

متعین مقدار کے عوض زمین اجارہ پر دینا


سوال

اگر کوئی شخص کسی کو زمین اس شرط پر دے کہ وہ سال کے اختتام پر سات من گندم اجرت کے طور پر ادا کرے گا اگرچہ زمین سے پیداوار کم حاصل ہو یا زیادہ، کیا شرعی لحاظ سے یہ  معاملہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زمین مخصوص مدت کے لیے اس شرط پر دینا  کہ کرایہ دارار مقررہ مدت کے اختتام پر بطورِ اجرت متعین مقدار میں گندم، یا کوئی دوسری متعین چیز ادا کرے گا، شرعی لحاظ سے اجارہ کہلاتا ہے، جو ایک جائز عمل ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں زمین کو اس شرط کے ساتھ اجارہ پر دینا کہ سال کے اختتام پر کرایہ دار سات من گندم بطورِ اجرت ادا کرے گا، خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ، شرعاً جائز ہے۔

 

قال: (وإن استأجر الأرض مدة معلومة بأجر معلوم ليترك الفضل فيها فذلك جائز) لأن ‌استئجار ‌الأرض صحيح إذا كان المستأجر يتمكن من استيفاء منفعتها والتمكن هنا موجود لاشتغالها بزرعه۔( المبسوط للسرخسي،  كتاب البيوع، ج: 12، ص: 194)

ومنها أن تكون الأجرة معلومةً. ومنها أن لاتكون الأجرة منفعةً هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة."( کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها،ج:4،ص:411)


فتویٰ نمبر : 4162/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں