بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وقف شدہ عید گاہ کو ذاتی مصرف میں استعمال کرنا


سوال

دو آدمیوں نےمل کر 1949ء میں ایک زمین عیدگاہ کے لیے وقف کردی تھی، اور گاؤں والوں کے حوالےکی تھی،   اس وقت سے لے کر  اب تک اس کے کچھ  حصے  پر عیدین کی نماز ادا کی جا رہی ہیں، اور کچھ صحن ہے،  اب ایک واقف کی چوتھی نسل کے لوگ اس عیدگاہ کے کچھ حصے کو لے کر ذاتی مصرف میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو ایسی صورت میں یہ جگہ جو نسل درنسل عیدگاہ چلی آرہی ہے، عیدگاہ شمار ہوگی یا نہیں؟ اور اس  کے کچھ حصے کو ذاتی مصرف میں استعمال کرناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ مسجد یا عیدگاہ کے لیے وقف کی جائے اور اس میں باجماعت نماز پڑھ لی  جائے، تو اس کا وقف  تام ہوجاتا ہے، اس کے بعد نہ اس کو بیچا جاسکتا ہے، نہ اس کو کوئی اپنا ملک بنا سکتاہے اور نہ اس میں میراث جاری ہوسکتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتا مذکورہ جگہ عیدگاہ کے لیے وقف کی گئی تھی، اور اس میں ایک عرصہ سےعیدین کی نماز پڑھی جارہی ہے، تو یہ شرعا عیدگاہ شمار ہوگی،واقفین کی اولاد کے لیے اپنے ذاتی مصرف میں اس کا  استعمال جائز نہیں۔

 

(ويزول ملكه عن المسجدوالمصلى) بالفعل  (قوله: والمصلى) شمل مصلى الجنازة ومصلى العيد قال بعضهم: يكون مسجدا حتى إذا مات لا يورث عنه)...  (قوله: بجماعة) لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف، وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد، ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا قال الزيلعي: وهذه الرواية الصحيحة. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:545)

(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن). (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الوقف، ج:6، ص:539)


فتویٰ نمبر : 6764/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں